سورة الصافات - آیت 37

بَلْ جَاءَ بِالْحَقِّ وَصَدَّقَ الْمُرْسَلِينَ

ترجمہ تیسیرالقرآن - مولانا عبد الرحمن کیلانی

حالانکہ وہ (رسول) حق لے کر آیا اور اس نے رسولوں [٢٠] کی تصدیق کی تھی

تفسیر مکہ - حافظ صلاح الدین یوسف حافظ

* یعنی تم ہمارے پیغمبر کو شاعر اور مجنون کہتے ہو، جب کہ واقعہ یہ ہے کہ وہ جو کچھ لایا اور پیش کر رہا ہے، وہ سچ ہے اور وہی چیز ہے جو اس سے قبل تمام انبیا بھی پیش کرتے رہے ہیں۔ کیا یہ کام کسی دیوانے کا یا کسی شاعر کے تخیلات کا نتیجہ ہو سکتا ہے؟