سورة فاطر - آیت 6

إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا ۚ إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ

ترجمہ تیسیرالقرآن - مولانا عبد الرحمن کیلانی

شیطان یقینا تمہارا دشمن ہے۔ لہٰذا اسے دشمن ہی سمجھو۔ وہ تو اپنے پیرو کاروں کو صرف اس لئے بلاتا ہے کہ وہ [١٠] دوزخی بن جائیں

تفسیر مکہ - حافظ صلاح الدین یوسف حافظ

* یعنی اس سے سخت عداوت رکھو، اس کے دجل وفریب اور ہتھکنڈوں سے بچو، جس طرح دشمن سے بچاؤ کے لئے انسان کرتا ہے۔ دوسرے مقام پر اسی مضمون کو اس طرح ادا کیا گیا ہے۔﴿أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظَّالِمِينَ بَدَلا﴾ (الكهف: 50) ”کیا تم اس شیطان اور اس کی ذریت کو، مجھے چھوڑ کر، اپنا دوست بناتے ہو؟ حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں۔ ظالموں کے لئے برا بدلہ ہے“۔