سورة الأنبياء - آیت 80

وَعَلَّمْنَاهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُم مِّن بَأْسِكُمْ ۖ فَهَلْ أَنتُمْ شَاكِرُونَ

ترجمہ تیسیرالقرآن - مولانا عبد الرحمن کیلانی

اور ہم نے داؤد کو تمہارے (فائدہ کے) لئے زرہ بنانے کی صنعت سکھلا دی تھی تاکہ تمہیں لڑائی کی زد سے بچائے۔ پھر کیا تم شکرگزار [٦٨] بنتے ہو؟

تفسیر مکہ - حافظ صلاح الدین یوسف حافظ

* یعنی لوہے کو ہم نے داؤد (عليہ السلام) کے لئے نرم کر دیا تھا، وہ اس سے جنگی لباس، لوہے کی زریں تیار کرتے تھے، جو جنگ میں تمہاری حفاظت کا ذریعہ ہیں۔ حضرت قتادہ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) فرماتے ہیں کہ حضرت داؤد (عليہ السلام) سے پہلے بھی زریں بنتی تھیں۔ لیکن وہ سادہ بغیر کنڈوں اور بغیر حلقوں کے ہوتی تھیں، حضرت داؤد (عليہ السلام) پہلے شخص ہیں جنہوں نے کنڈے دار حلقے والی زریں بنائیں (ابن کثیر)