سورة الحجر - آیت 27

وَالْجَانَّ خَلَقْنَاهُ مِن قَبْلُ مِن نَّارِ السَّمُومِ

ترجمہ تیسیرالقرآن - مولانا عبد الرحمن کیلانی

اور جنوں کو اس سے پہلے ہم آگ کی لپٹ سے [١٨] پیدا کرچکے تھے

تفسیر مکہ - حافظ صلاح الدین یوسف حافظ

* جِنّ کو جن اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔ سورہ رحمٰن میں جنات کی تخلیق ﴿مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ﴾ (الرحمن:15) سے بتلائی گئی ہے اور صحیح مسلم کی ایک حدیث میں یہ کہا گیا ہے ﴿خُلِقَتِ الْمَلائِكَةُ مِنْ نُورِ وَخُلِقَ الْجَانّ مِنْ نَارٍ وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا وَصَفَ لَكُمْ ﴾ (كتاب الزهد، باب في أحاديث متفرقة) اس اعتبار سے لو والی آگ یا آگ کے شعلے کا ایک ہی مطلب ہوگا۔