سورة الحجر - آیت 20

وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَايِشَ وَمَن لَّسْتُمْ لَهُ بِرَازِقِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور اسی زمین میں ہم نے تمہارے لئے بھی سامان معیشت بنا دیا اور ان کے لئے بھی جن [١١] کے رازق تم نہیں ہو

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢٠۔ ١ معایش معیشۃ کی جمع ہے یعنی زمین میں تمہاری معیشت اور گزران کے لئے بیشمار اسباب و وسائل پیدا کردیئے۔ ٢٠۔ ٢ اس سے مراد نوکر چاکر، غلام اور جانور ہیں۔ یعنی جانوروں کو تمہارے تابع کردیا، جن پر تم سواری بھی کرتے ہو، سامان بھی لاد کرلے جاتے ہو اور انھیں ذبح کر کے کھا بھی لیتے ہو۔ غلام لونڈیاں ہیں، جن سے تم خدمت گزاری کا کام لیتے ہو۔ یہ اگرچہ سب تمہارے ماتحت ہیں اور تم ان کے چارے اور خوراک وغیرہ کا انتظام بھی کرتے ہو لیکن حقیقت میں ان کا رازق اللہ تعالیٰ ہے، تم نہیں ہو۔ تم یہ نہ سمجھنا کہ تم ان کے رازق ہو، اگر تم انھیں کھانا نہیں دو گے تو بھوکے مر جائیں گے۔