سورة الرعد - آیت 5

وَإِن تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ أَإِذَا كُنَّا تُرَابًا أَإِنَّا لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ ۗ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور اگر آپ [٩] تعجب کرتے ہیں تو اس سے بھی عجیب تر ان لوگوں کی بات ہے جو کہتے ہیں کہ : ’’جب ہم مٹی بن جائیں گے تو کیا از سرنو پیدا ہوں گے؟‘‘ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کا انکار [١٠] کیا اور ایسے ہی لوگوں کی گردنوں میں طوق ہوں گے یہی لوگ اہل دوزخ ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہینگے

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٥۔ ١ یعنی جس ذات نے پہلی مرتبہ پیدا کیا، اس کے لئے دوبارہ اس چیز کا بنانا کوئی مشکل کام نہیں۔ لیکن کفار یہ عجیب بات کہتے ہیں کہ دوبارہ ہم کیسے پیدا کئے جائیں گے۔