سورة ھود - آیت 105
يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ
ترجمہ تیسیرالقرآن - مولانا عبد الرحمن کیلانی
جب یہ دن آجائے گا تو اللہ کے اذن کے بغیر کوئی شخص کلام [١١٧] بھی نہ کرسکے گا۔ پھر ان لوگوں میں کچھ بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت
تفسیر مکہ - حافظ صلاح الدین یوسف حافظ
* گفتگو نہ کرنے سے مراد، کسی کو اللہ تعالٰی سے کسی طرح کی بات یا شفاعت کرنے کی ہمت نہیں ہوگی۔ الا یہ کہ وہ اجازت دے دے۔ طویل حدیث شفاعت میں ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا: [ وَلا يَتَكَلَّمُ يَوْمَئِذٍ إِلا الرُّسُلُ وَدَعْوَى الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ؛ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ ] (صحيح بخاری- كتاب الإيمان، باب فضل السجود، ومسلم، كتاب الإيمان، باب معرفة طريق الرؤية ) ”اس دن انبیاء کے علاوہ کسی کو گفتگو کی ہمت نہ ہوگی اور انبیاء کی زبان پر بھی اس دن صرف یہی ہوگا کہ یا اللہ! ہمیں بچا لے، ہمیں بچا لے“۔