سورة یونس - آیت 9

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ يَهْدِيهِمْ رَبُّهُم بِإِيمَانِهِمْ ۖ تَجْرِي مِن تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ

ترجمہ تیسیرالقرآن - مولانا عبد الرحمن کیلانی

بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے [١٣] ان کے ایمان کی وجہ سے ان کا پروردگار انہیں ایسے نعمتوں والے باغوں کی راہ دکھلائے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی

تفسیر مکہ - حافظ صلاح الدین یوسف حافظ

* اس کے ایک دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ دنیا میں ایمان کے سبب قیامت والے دن اللہ تعالٰی ان کے لئے پل صراط سے گزرنا آسان فرما دے گا، اس صورت میں یہ ”با“ سببیت کے لئے ہے۔ بعض کے نزدیک یہ استعانت کے لئے ہے اور معنی یہ ہونگے کہ اللہ تعالٰی قیامت والے دن ان کے لئے ایک نور مہیا فرمائے گا جس کی روشنی میں وہ چلیں گے، جیسا کہ سورہ حدید میں اس کا ذکر آتا ہے۔