سورة الاعراف - آیت 84

وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا ۖ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور اس قوم پر (پتھروں کی) بارش [٨٩] برسائی پس دیکھ لیجیے کہ مجرموں کا انجام کیسا ہوا ؟

تفسیر احسن البیان - حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ

1- یہ خاص طرح کا مینہ کیا تھا ؟ پتھروں کا مینہ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ مَنْضُودٍ [هود: 82]. ”ہم نے ان پر تہ بہ تہ پتھروں کی بارش برسائی“۔ اس سے پہلے فرمایا : ﴿جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا ”ہم نے اس بستی کو (الٹ کر) نیچے اوپر کردیا“۔ 2- یعنی اے محمد! (ﷺ) دیکھئے تو سہی، جو لوگ علانیہ اللہ کی معاصی کا ارتکاب اور پیغمبروں کی تکذیب کرتے ہیں، ان کا انجام کیا ہوتا ہے؟