سورة الاعراف - آیت 90

وَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَوْمِهِ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا إِنَّكُمْ إِذًا لَّخَاسِرُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اس کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا : '' اگر تم لوگوں نے شعیب [٩٦] کی پیروی کی تو تم نقصان اٹھاؤ گے''

ابن کثیر - حافظ عماد الدین ابوالفداء ابن کثیر صاحب

قوم شعیب کا شوق تباہی پورا ہوا اس قوم کی سرکشی ، بد باطنی ملاحظہ ہو کر مسلمانوں کو اسلام سے ہٹانے کے لئے انہیں یقین دلا رہے ہیں کہ شعیب علیہ السلام کی اطاعت تمہیں غارت کر دے گی اور تم بڑے نقصان میں اتر جاؤ گے ۔ ان مومنوں کے دلوں کو ڈرانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ آسمانی عذاب بصورت زلزلہ زمین سے آیا اور انہیں سچ مچ لرزا دیا اور غارت و برباد ہو کر خود ہی نقصان میں پھنس گئے ۔ یہاں اس طرح بیان ہوا ۔ سورۃ ہود میں بیان ہے کہ آسمانی کڑاکے کی آواز سے یہ ہلاک کئے گئے ۔ ۱؎ (11-ہود:94) یہ اس لیے وہاں بیان ہے کہ انہوں نے اپنے وطن سے نکل جانے کی ڈانٹ ایمان داروں کو دی تھی تو آسمانی ڈانٹ کی آواز نے ان کی آواز پست کر دی اور ہمیشہ کے لئے یہ خاموش کر دیئے گئے ۔ سورۃ الشعراء میں بیان ہے کہ بادل ان پر عذاب بن کر برسا ۔ کیونکہ وہیں ذکر ہے کہ خود انہوں نے اپنے نبی علیہ السلام سے کہا تھا کہ ’ اگر سچے ہو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو الخ ۔ ‘ ۱؎ (26-الشعراء:187) واقعہ یہ ہے کہ یہ تینوں عذاب ان پر ایک ساتھ آئے ۔ ادھر ابر اٹھا جس سے شعلہ باری ہونے لگی ، آگ برسنے لگی ۔ ادھر تند اور سخت کڑاکے کی آواز آئی ، ادھر زمین پر زلزلہ آیا ۔ نیچے اوپر کے عذابوں سے دیکھتے ہی دیکھتے تہ و بالا کر دیئے گئے ، اپنی اپنی جگہ ڈھیر ہو گئے ۔ یا وہ وقت تھا کہ یہاں سے مومنوں کو نکالنا چاہتے تھے یا یہ وقت ہے کہ یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ کسی وقت یہاں یہ لوگ آباد بھی تھے ، مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کہ تم نقصان میں اترو گے یا یہ ہے کہ خود برباد ہو گئے ۔