سورة الانعام - آیت 38

وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم ۚ مَّا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِن شَيْءٍ ۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

زمین میں جتنے بھی چلنے والے جانور ہیں اور جتنے بھی اپنے بازوؤں سے اڑنے والے پرندے ہیں۔ وہ سب تمہاری ہی طرح کی انواع [٤٣] ہیں۔ ہم نے ان کی بھی تقدیر لکھنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ پھر یہ [٤٤] سب اپنے پروردگار کے حضور اکٹھے کئے جائیں گے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : کفار نشانی کا مطالبہ کرتے تھے اس کے جواب میں ان کی توجہ پر ندوں کی طرف مبذول کی گئی ہے تاکہ وہ ان کی ساخت، پرورش اور پرواز کے نظام پر غور کریں۔ منکرین حق کا مطالبہ تھا کہ ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی مزید نشانیاں آنی چاہییں جس کے جواب میں یہ فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ مزید نشانیاں نازل کرنے پر قادر ہے۔ تاہم اگر انسان غور کرے تو اس کی چشم کشائی کے لیے اس کے گرد و پیش اتنے نشانات عبرت ہیں کہ جن کو دیکھ کریہ مالک حقیقی کو پہچان سکتا ہے۔ اس کے لیے انسان کو دور دراز سفر کرنے کی ضرورت نہیں اگر وہ اپنے سامنے زمین پر چلنے والے جانور اور فضا میں اڑنے والے پرندوں پر غور کرے تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نظام قدرت کی حدود وقیود کے اس طرح پابند ہیں کہ کوئی اس سے سرمو انحراف نہیں کرسکتا۔ یہ درند اور پرند نہ صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہیں بلکہ اس کی حمدو ثنا کے گیت گاتے ہیں۔ سورۃ بنی اسرائیل آیت ٤٤ میں بیان کیا گیا ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے وہ تمام کے تمام اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرتے ہیں لیکن انسان ان کی تسبیحات کو نہیں سمجھ سکتے۔ سورۃ النحل آیت ٧٩ میں اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ دیکھو اور غور کرو کہ اللہ کے سوا کون ہے جو پرندوں کو فضا میں تھامے ہوئے ہے اس میں لا تعداد نشانیاں ہیں مگر ان لوگوں کے لیے جو تسلیم کرنے کی دولت سے بہرہ مند ہیں۔ اسی بات کو سورۃ الملک آیت ١٩ میں یوں بیان کیا کہ کیا یہ لوگ پرندوں کی طرف غور نہیں کرتے کہ وہ ان کے سروں کے اوپر فضا میں پرواز کرتے ہوئے اپنے پروں کو کھولتے اور سمیٹ لیتے ہیں۔ رحیم و کریم رب کے سوا پرندوں کو کون سنبھالے ہوئے ہے۔ یہاں پرندوں کو آدمیوں کی مثل امت قرار دیتے ہوئے یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ سب کا ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے اور ہر کسی نے اپنے رب کی بارگاہ میں اکٹھا ہونا ہے۔ امام رازی (رض) اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ١۔ حیوان اور پرندے کو بھی اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہے اور وہ اس کی حمدو تسبیح میں مصروف رہتے ہیں۔ ٢۔ جس طرح انسانوں میں تو لدوتناسل کا سلسلہ جاری ہے اسی طرح پرندے بھی آپس میں محبت اور مباشرت کا عمل اختیار کرتے ہیں۔ ٣۔ جس طرح انسانوں کو ایک خاص مقصد اور تدبیر کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے اسی طرح حیوانوں اور پرندوں کو بھی خاص مقصد اور تدبیر کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ ٤۔ جس طرح اللہ تعالیٰ انسان کی حفاظت اور اس کے رزق کا ذمہ دار ہے یہی معاملہ پرندوں اور درندوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ٥۔ جس طرح قیامت کے دن انسانوں کو اکٹھا کرکے ان سے ایک دوسرے کا قصاص لیا جائے گا اسی طرح درندوں، پرندوں اور جانوروں کو جمع کرکے ان سے ایک دوسرے کا بدلہ چکا یا جائے گا۔ ٦۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے موت و حیات اور دیگر معاملات مقرر فرمائے ہیں اسی طرح حیوانوں اور پرندوں کے لیے ضابطے مقرر کیے ہیں۔ ٧۔ جس طرح انسان اپنی روزی کا محتاج ہے اور اس کے لیے تگ و دو کرتا ہے اسی طرح دیگر جاندار اپنی خوراک کے محتاج ہیں اور اس کے لیے محنت کرتے ہیں۔ ٨۔ انسانوں، حیوانوں اور پرندوں کے درمیان عادات اور خصائل کے لحاظ سے بھی کچھ قدریں مشترک ہیں شیر کی طرح بہادر، مور کی طرح خوبصورت خنزیر کی طرح بے حمیت، کوے کی طرح حریص اور لومڑی کی طرح بعض انسان چالاک اور عیار ہوتے ہیں۔ مسائل ١۔ ہر ذی روح چیز سے حساب و کتاب ہوگا۔ ٢۔ تمام مخلوقات کو قیامت کے روز اکٹھا کیا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن لوگوں کا اللہ کے حضور اکٹھا ہونا یقینی ہے : ١۔ یقیناً قیامت کے دن اللہ تمھیں جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں۔ (الانعام : ١٢) ٢۔ آپ فرما دیں تمھارے پہلے اور آخر والے سب کو ضرور اکٹھا کیا جائے گا۔ (الواقعۃ: ٤٧ تا ٥٠) ٣۔ پھر ہم تمھیں تمھاری موت کے بعد اٹھائیں گے۔ (البقرۃ: ٥٦) ٤۔ جس دن تم سب کو جمع ہونے والے دن اللہ جمع کرے گا۔ (التغابن : ٩) ٥۔ جس دن اللہ رسولوں کو جمع کرے گا۔ (المائدۃ: ١٠٩) ٦۔ یہ فیصلہ کا دن ہے ہم نے تمھیں بھی جمع کردیا ہے اور پہلوں کو بھی۔ (المرسلات : ٣٨)