سورة النسآء - آیت 170

يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ الرَّسُولُ بِالْحَقِّ مِن رَّبِّكُمْ فَآمِنُوا خَيْرًا لَّكُمْ ۚ وَإِن تَكْفُرُوا فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

لوگو! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے رسول دین حق [٢٢٣] لے کر آچکا ہے لہذا تمہارے لیے بہتر یہی ہے کہ تم ایمان لے آؤ اور کفر کرو گے تو (یاد رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : منکرین نبوت کو ایک مرتبہ پھر نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے انکار کرنے والوں کو انتباہ کیا ہے کہ تمہارے کفر سے خدا کی خدائی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ یہود کے بعد دعوت عام دی جا رہی ہے کہ اے لوگو! یہودیوں کی طرح بہانہ تراشی اور حیلہ سازی کرنے کی بجائے سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لاؤ۔ جو تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے حق کے ساتھ مبعوث کیے گئے ہیں۔ یہی تمھارے لیے بہتر راستہ ہے اگر تم ایمان لانے اور حق کا ساتھ دینے سے گریزاں ہو تو یاد رکھو۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت میں کوئی فرق نہیں پڑتا زمین و آسمان کا ذرّہ ذرّہ اور چپہ چپہ اس کے تابع فرمان ہے۔ صرف باغی انسان ہی پوری کائنات کے طرزعمل کے خلاف طریقہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ یہ ڈھیل انسان کو اس لیے نہیں دی گئی کہ انسان کے اعمال و خیالات اللہ کے علم سے باہر ہیں اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے کے باوجود اپنی حکمت و مشیّت کے تحت انسان کو ایک وقت مقرر تک چھوڑے ہوئے ہے جب اس کی گرفت اور عتاب کا وقت آئے گا تو باغی اور ظالم کو چھڑانے اور بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ حق (اَلْحَقُّ) اللہ کے ٩٩ صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔ (مشکوٰۃ: باب اسماء اللہ ) ” حق“ سے مراد قرآن اور اللہ کا پیغام ہے آپ کی نبوت کے بارے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نہصرف دعا کی بلکہ مکہ شہر کی نشاندہی بھی فرمائی کہ اس شہر اور اس قوم میں آخری نبی ہونا چاہیے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے آگے بڑھ کر آپ کا اسم گرامی لے کر بنی اسرائیل کو آپ کی نبوت کی بشارت سے نوازا۔ (عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ السُّلَمِیِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ إِنِّی عَبْدُ اللّٰہِ فِی أُمِّ الْکِتَابِ لَخَاتَمُ النَّبِیِّینَ وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِی طینَتِہٖ وَسَأُنَبِّءُکُمْ بِتَأْوِیلِ ذَلِکَ دَعْوَۃِ أَبِی إِبْرَاہِیمَ وَبِشَارَۃِ عیسَی قَوْمَہُ وَرُؤْیَا أُمِّی الَّتِی رَأَتْ أَنَّہُ خَرَجَ مِنْہَا نُورٌ أَضَاءَ تْ لَہُ قُصُور الشَّامِ وَکَذٰلِکَ تَرٰی أُمَّہَات النَّبِیِّینَ صَلَوَات اللّٰہِ عَلَیْہِمْ) [ رواہ احمد] ” حضرت عرباض بن ساریہ سلمی بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بلاشبہ میں اللہ کا بندہ ہوں قرآن مجید میں مجھے خاتم النبیین قرار دیا گیا ہے جب حضرت آدم (علیہ السلام) ابھی مٹی اور روح کے درمیان تھے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت اور اپنی والدہ ماجدہ کا خواب ہوں انھوں نے دیکھا کہ ان کے وجود سے ایک روشنی نکلی جس سے ملک شام کے محلات روشن ہوگئے۔ اور اسی طرح ہی انبیاء کرام (علیہ السلام) کی مائیں دیکھا کرتی تھیں۔“ (یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوا عَلَی أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِنْ مُلْکِی شَیْءًا)[ رواہ مسلم : باب تَحْرِیم الظُّلْمِ] ” اے میرے بندو اگر تمھارے پہلے، پچھلے جن و انس سارے کے سارے فاجر انسان کی طرح ہوجائیں میری بادشاہت میں کسی چیز کی کمی واقع نہیں ہوسکتی۔“ مسائل ١۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق لے کر مبعوث ہوئے ہیں۔ ٢۔ کفر و شرک کرنے والے اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ علم و حکمت والا ہے۔ تفسیر بالقرآن رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مرتبہ و مقام : ١۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پوری دنیا کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا۔ (الاعراف : ١٥٨) ٢۔ آپ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا گیا۔ (الانبیاء : ١٠٧) ٣۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاتم النبیین ہیں۔ (الاحزاب : ٤٠) ٤۔ آپ کو پوری دنیا کے لیے داعی، بشیر اور نذیر بنا کر مبعوث کیا گیا ہے۔ (الاحزاب : ٤٥۔ ٤٦) ٥۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمام انسانوں کے لیے رؤف، رحیم بنایا گیا ہے۔ (التوبۃ : ١٢٨) ٦۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت مومنوں پر اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہے۔ (آل عمران : ١٦٤)