سورة النسآء - آیت 4

وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً ۚ فَإِن طِبْنَ لَكُمْ عَن شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَّرِيئًا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

نیز عورتوں کو ان کے حق مہر [٧] بخوشی ادا کرو۔ ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ تمہیں چھوڑ دیں تو تم اسے مزے سے کھا سکتے ہو

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : عورتوں کے اخلاقی‘ ازدواجی حقوق بیان کرنے کے بعد ان کا حق مہر اور مالی حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ ان کے معاشی تحفظ کے ساتھ شخصی وقار میں اضافہ ہوجائے۔ اسلام سے پہلے عورتوں پر یہ ظلم بھی ہوتا تھا کہ انہیں حق مہر سے محروم کردیا جاتا اس ظلم کی چار شکلیں تھیں۔ ١۔ یتیم اور کمزور گھرانوں کی بچیوں کا سرے سے حق مہر مقرر ہی نہیں کیا جاتا تھا۔ ٢۔ بعض دفعہ عورت کا ولی حق مہر خود ہی کھا جاتا تھا۔ ٣۔ حق مہر مقرر کرنے کے باوجود عورت کو حق مہرنہ دیا جاتا یا ادا کرنے میں کئی کئی سال اجتناب کیا جاتا۔ تاآنکہ عورت کے مطالبہ پر میاں بیوی کے درمیان تلخیاں پیدا ہوجاتیں۔ ٤۔ خاوند ایسا رویّہ اختیار کرتا جس سے مجبور ہو کر عورت اپنا حق مہر چھوڑنے پر آمادہ ہوجاتی تھی۔ قرآن مجید نے ” نِحْلَۃً“ کا لفظ استعمال فرما کر اس بات کی طرف واضح اشارہ کیا ہے کہ حق مہر دل کی خوشی اور رغبت کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔ حق مہر خاوند کی طرف سے بیوی کے لیے شب زفاف کا تحفہ اور محبت کا اظہار ہے۔ اس سے آدمی کو پہلے دن ہی ازدواجی زندگی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اگر کوئی عورت اپنی خوشی سے حق مہر خاوند کو معاف کر دے تو خاوند کو چاہیے کہ وہ اس انداز سے اسے استعمال کرے۔ جس سے اس کی استغناء ظاہر ہوتی ہو۔ ایسا کرنے سے آدمی ہلکے پن اور لالچی ہونے کے الزام سے بچ جائے گا۔ بصورت دیگر عورت کی نظر میں خاوند کا ہلکا پن اور اس کے لالچی ہونے کا شبہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہوسکتا ہے۔ جس کے لیے یہ ہدایت فرمائی کہ اسے کھاؤ مگر خوشگوار طریقے کے ساتھ۔ حق مہر کا تعیّن لڑکے اور لڑکی کے نکاح کی صورت اس وقت ہی پیش آتی ہے جب دونوں خاندانوں کے درمیان قربت اور مودّت پیدا ہوجائے۔ اس قربت اور مودّت کو آگے بڑھانے اور دونوں خاندانوں اور افراد کو مالی بوجھ سے بچانے کے لیے شریعت نے اپنی طرف سے حق مہر کا تعین کرنے کی بجائے لڑکے، لڑکی اور اس کے ولی پر معاملہ چھوڑ دیا ہے۔ اب ان کا فرض ہے کہ وہ ایک دوسرے کی مالی استعداد کا لحاظ رکھتے ہوئے خوشگوار ماحول اور باہمی رضا مندی سے حق مہر کا تعین کریں۔ اس لیے حدیث کے مقدس ریکارڈ میں بیوی کو چند آیات حفظ کروانے سے لے کر حق مہر میں بھاری رقم دینے کا ثبوت ملتا ہے۔ قرآن مجید نے حق مہر کے لیے ” قِنْطَاراً“ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا معنیٰ خزانہ ہے۔ اس سے مراد کثیر رقم ہے۔ لہٰذا جو علماء شرعی حق مہر 32 روپے یا اپنی طرف سے کسی قسم کی رقم کا تعین کرتے ہیں۔ دین میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا بلکہ یہ عورت پر زیادتی کرنے کے مترادف ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چند صحابہ (رض) میں تشریف فرما تھے ایک عورت نے اپنے حالات سے مجبور ہو کراپنے آپ کو نکاح کے لیے آپ کی خدمت میں پیش کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے۔ اتنے میں ایک شخص عرض کرنے لگا اگر آپ آمادہ نہیں تو میں اس عورت کے ساتھ نکاح کرنے کے لیے تیار ہوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ تیرے پاس حق مہر کے لیے کچھ ہے؟ اس نے عرض کیا یہ چادر جو میں نے لپیٹ رکھی ہے اس کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں۔ فرمایا کہ چادر اپنے پاس رکھو اور حق مہر کے لیے لوہے کی انگوٹھی ہی لے آؤ۔ کوشش کے باوجود اسے انگوٹھی بھی میسر نہ ہوسکی۔ وہ خالی ہاتھ واپس آیا۔ آپ پوچھتے ہیں کہ تجھے قرآن مجید یاد ہے؟ تو اس نے عرض کی کہ مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ سورتیں حق مہر کے طور پر اپنی بیوی کو یاد کروا دینا۔ [ بخاری : کتاب النکاح، باب تزویج المعسر] ایک دفعہ امیر المومنین حضرت عمر (رض) نے خطبہ جمعہ میں فرمایا : ( أَلَا لَاتُغَالُوْا صَدْقَۃَ النِّسَاءِ فَإِنَّھَا لَوْ کَانَتْ مَکْرُمَۃً فِی الدُّنْیَاأَوْ تَقْوٰی عِنْدَ اللّٰہِ لَکَانَ أَوْلَاکُمْ بِھَا نَبِیُّ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَاعَلِمْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نَکَحَ شَیْءًا مِّنْ نِّسَاءِہٖ وَلَاأَنْکَحَ شَیْءًا مِنْ بَنَاتِہٖ عَلٰی أَکْثَرَ مِّنْ ثِنْتَیْ عَشْرَۃَ أُوْقِیَّۃً) [ رواہ الترمذی : کتاب النکاح، باب منہ ] ” خبردار! عورتوں کے حق مہر بڑھا چڑھا کر مقرر نہ کیا کرو۔ اگر یہ بات عظمت اور تقو ٰی کا باعث ہوتی تو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے سب سے زیادہ حق دار تھے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کی کسی بیوی یا بیٹی کا حق مہر بارہ تولے چاندی سے زیادہ نہیں تھا۔“ حضرت عمر (رض) کے فرمان کا مقصد حق مہر میں اعتدال قائم رکھنے کی طرف توجہ دلانا تھا۔ اس کے باوجود کسی شخص کو عورتوں کے حق مہر کی رقم متعین کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اسی لیے حضرت عمر کے خطبہ کے دوران ایک عورت نے کہا تھا کہ امیر المومنین آپ حق مہر کی رقم مقرر نہیں کرسکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں قنطار کا لفظ استعمال فرما کر حق مہر کے مسئلہ کو کھلا چھوڑ دیا ہے۔ اگر کوئی آدمی حق مہر میں خزانہ بھی دینا چاہے تو کوئی حرج نہیں امیر المومنین نے اس عورت کی تصدیق کرتے ہوئے فرمایا کہ عورت کو مسئلہ یادرہا اور مجھ سے خطا ہوئی۔[ عون المعبود] مسائل ١۔ عورتوں کے حق مہر ادا کرنے چاہییں عورت خود معاف کر دے تو اسے اچھے طریقے سے کھانا چاہیے تھا۔ ٢۔ حق مہر مقرر کرتے وقت اعتدال قائم رکھنا چاہیے۔