سورة الأنبياء - آیت 1

اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

لوگوں کے حساب کا وقت قریب [١] آ پہنچا ہے جبکہ وہ ابھی تک غفلت میں منہ موڑے [٢] ہوئے ہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : سورۃ طٰہٰ کا اختتام اس بات پر ہوا تھا۔ اے لوگو! جس عذاب کا تم مطالبہ کرتے ہو اس کا انتظار کرو۔ میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔ سورۃ الانبیاء کی ابتداء اس بات سے ہو رہی ہے کہ منکرین حق جس عذاب کا انتظار کر رہے ہیں وہ تو قریب آن پہنچا ہے۔ احتساب اور عذاب کا دن قریب آپہنچا ہے۔ لیکن منکرین حق غفلت کی بناء پر اس سے اعراض کیے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جب بھی کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے شغل کے طور پر لیتے اور سنتے ہیں۔ انھیں متنبہ کیا جا رہا ہے کہ جس عذاب کا تم مطالبہ کرتے ہو قیامت کے دن تم اس میں مبتلا کیے جاؤ گے۔ منکرین حق کے لیے یہ انتقام اور سخت عذاب کا دن ہوگا جو قریب ہی آن پہنچا ہے۔ اس فرمان کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت پہلے لوگوں کی نسبت تمھارے زیادہ قریب آچکی ہے قیامت سے مراد قیامت کبریٰ بھی ہے اور ہر انسان کی موت بھی جو اس کے لیے قیامت ہی ہوا کرتی ہے۔ اگر انسان اپنی زندگی پر غور کرے تو ہر آنے والا دن اسے موت کے قریب کر رہا ہے۔ اس طرح ہر شخص دن بدن قیامت کے قریب تر ہوا جا رہا ہے لیکن لوگ غفلت کی بنا پر اس سے لاپرواہی کیے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگوں کو جب بھی نصیحت کی جائے تو وہ اسے شغل کے طور پر سنتے ہیں۔ یہی حالت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخاطبین کی تھی کہ جب بھی ان کے سامنے نازل ہونے والی نئی آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ اس سے یہ کہہ کر اعراض کرتے ہیں کہ یہ تو اس شخص کا روز مرّہ کا کام ہے اور یہ نئی سے نئی پیشگوئی اور دھمکی دیتا ہے۔ اس پر انھیں انتباہ کیا گیا کہ وہ وقت دور نہیں کہ جب تمہاری یا وہ گوئی کا حساب چکا دیا جائے گا۔ (مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِیَامَتُہٗ )[ لسلسلۃ الضعیفۃ و الموضوعۃ ] ” جو شخص مر گیا اس پر قیامت قائم ہوگئی“ (عَنْ شُعْبَۃَ (رض) عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ اَنَسٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بُعِثْتُ اَنَاو السَّاعَۃُ کَھَاتَیْنِ قَالَ شُعْبَۃُ وَسَمِعْتُ قَتَادَۃَیَقُوْلُ فِیْ قَصَصِہٖ کَفَضْلِ اِحْدٰھُمَا عَلَی الْاُخْرٰی فَلَا اَدْرِیْ اَذَکَرَہُ عَنْ اَنَسٍٍٍ اَوْ قَالَہُ قَتَادَۃُ) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق] حضرت شعبہ، قتادہ ;سے اور وہ حضرت انس (رض) سے بیان کرتے ہیں رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح بھیجا گیا ہے شعبہ کہتے ہیں میں نے قتادہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا جیسا کہ ان دونوں انگلیوں میں سے ایک کو دوسری پر بر تری حاصل ہے شعبہ کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے حضرت انس (رض) سے بیان کیا ہے یا قتادہ کا قولنقل ہے۔“ (یعنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قیامت کے دن کے درمیان کوئی اور نبی نہیں آنا) مسائل ١۔ قیامت ہر شخص کے قریب سے قریب تر ہو رہی ہے۔ ٢۔ قیامت کے دن ہر شخص کا حساب چکا دیا جائے گا۔ ٣۔ لوگ قیامت کے بارے میں غفلت کا روّیہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ٤۔ حق کے منکر حق بات کو بھی شغل کے طور پر لیتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن منکرین کا حق کے ساتھ رویہّ : ١۔ منکرین کے پاس جب نصیحت آتی ہے تو اسے ہنسی کھیل کے طور پر لیتے ہیں۔ (الانبیاء : ٢) ٢۔ جب ان کے پاس حق آتا ہے تو کہتے ہیں یہ سراسر جادو ہے۔ (یونس : ٧٦) ٣۔ منکرین نے حق کی تکذیب کی اور یہ لوگ بے بنیاد بات پر جمے ہوئے ہیں۔ (ق : ٥) ٤۔ منکرین حق کے مقابلہ میں ظن کی پیروی کرتے ہیں اور ظن حق کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ (النجم : ٢٨) ٥۔ جب ان کے پاس حق آیا تو انہوں نے کہا کہ یہ جادو ہے ہم اس کو نہیں مانتے۔ ( الزخرف : ٣٠) ٦۔ جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا تو کہنے لگے کاش کہ ہمیں بھی وہ چیز عطا کی جاتی جو موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کی گئی۔ (القصص : ٤٨)