سورة الكهف - آیت 1

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنزَلَ عَلَىٰ عَبْدِهِ الْكِتَابَ وَلَمْ يَجْعَل لَّهُ عِوَجًا ۜ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

سب تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے اپنے [١۔ الف] بندے پر یہ کتاب (قرآن) نازل کی اور اس میں کوئی کجی نہیں رکھی۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل ایم اے

فہم القرآن : (آیت 1 سے 3) ربط کلام : سورۃ بنی اسرائیل کا اختتام اس حکم کے ساتھ ہوا ہے۔ اے پیغمبر ! اللہ کی حمد وثناء کیجیے۔ جس کا کسی حوالے سے بھی کوئی شریک نہیں۔ وہ اپنی ذات، صفات اور شان کے اعتبار سے ہر کسی سے بلند وبالا ہے۔ سورۃ الکھف کی ابتداء اللہ کی حمد سے ہورہی ہے جس نے اپنے بندے حضرت محمد (ﷺ) پر ایسی کتاب نازل فرمائی جس میں کوئی نقص اور جھول نہیں ہے۔ تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنے بندے حضرت محمد (ﷺ) پر قرآن مجید نازل فرمایا۔ جس میں کسی قسم کی جھول، تضاد اور پچیدگی نہیں پائی جاتی۔ جس کے فرمان واضح، ٹھوس، سیدھے سادھے، صراط مستقیم کے ترجمان اور ہر قسم کے الجھاؤ، عیب اور نقصان سے پاک ہیں۔ قرآن مجید اس لیے نازل کیا گیا تاکہ لوگوں کو عذاب شدید سے ڈرایا جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ اس میں صالح کردار مومنوں کے لیے بہترین اجر کی خوشخبری دی گئی ہے۔ جن کا صلہ جنت ہے جس میں صالح اعمال کرنے والے لوگوں کو داخل کیا جائے گا وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ یہاں قرآن مجید کے تین اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے۔ 1۔ قرآن مجید میں برے اعمال کی نشاندہی اور اس کے انجام سے ڈرایا گیا ہے۔ 2۔ قرآن مجید صالح کردار ایمان داروں کو جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے کی خوشخبری دیتا ہے۔ 3۔ قرآن مجید کے من جانب اللہ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے۔ کہ اس کے احکام اور مضامین میں کسی قسم کی پیچیدگی، الجھاؤ ،تضاد اور تعارض نہیں پایا جاتا۔ ناصرف اس میں الجھاؤ اور تعارض نہیں پایا جاتا بلکہ اس کی یہ بھی صفت ہے کہ اس کے ارشادات سادہ اور ٹھوس ہیں جن پر عمل پیرا ہونا آسان ہے اور اس کے بدلے دنیا اور آخرت کی کا میابی نصیب ہوتی ہے۔ مسائل: 1۔ حقیقی تعریفات کے لائق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ 2۔ قرآن مجید میں کسی قسم کی کجی نہیں ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر کتاب نازل فرمائی۔ 4۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے کاموثرذریعہ ہے۔ 5۔ قرآن مجید مومنوں کے لیے باعث رحمت اور بشارت ہے۔ 6۔ اعمال صالحہ کرنے والے مومنین کے لیے بہترین اجر اور خوشیوں کا پیغام ہے۔ تفسیر بالقرآن: عمل صالح کا صلہ : 1۔ عمل صالح کرنے والے مومنوں کے لیے خوشخبری اور ان کے لیے بہترین اجر ہے۔ (الکھف :2) 2۔ جو بھی مومن صالح عمل کرے گا اس کی محنت کو رائیگاں نہیں کیا جائے گا۔ (الانبیاء :94) 3۔ ایمان دار اور عمل صالح کرنے والوں کے لیے بخشش اور رزق کریم ہے۔ (الحج :5) 4۔ عمل صالح کرنے والے مومنوں کے گناہوں کو اللہ ختم کردیں گے۔ (العنکبوت :7) 5۔ بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے لیے نعمتوں والی جنت ہے۔ (لقمان :8) 6۔ ایمان دار اور عمل صالح کرنے والوں کے لیے جنت الفردوس میں مہمانی کا اہتمام ہوگا۔ (الکھف :107)