سورة ابراھیم - آیت 7

وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور جب تمہارے رب نے اعلان کیا تھا : اگر تم شکر کرو گے تو تمہیں اور زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو پھر میرا [٩] عذاب بھی بڑا سخت ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان اطہر سے بنی اسرائیل کو آزادی کی نعمت یاد کروانے کے بعد سب لوگوں کو شکر گزار ہونے کی ہدایت۔ مذکورہ بالا آیت سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے موسیٰ کو اس لیے بھیجا کہ وہ اپنی قوم کو ان کے ماضی کے ایام اور اللہ تعالیٰ کے انعام یاد کروا کر انہیں کفر و شرک اور بدعت ورسومات کی تاریکیوں سے نکال کر اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ نور کی طرف لانے کی کوشش کریں۔ یہ کوشش ہر اس شخص کے لیے مفید اور کارگرثابت ہوگی جو مشکلات پر صبر اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے والا ہے۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کو ان کے اذیت ناک ماضی کا حوالہ دیا گیا۔ اب انہیں اور دنیا کے ہر انسان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ لوگو! تمہارے رب کا یہ فرمان ہے کہ اگر تم اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرو گے تو وہ تمہیں مزید نعمتوں سے نوازتا رہے گا۔ اگر تم نے ناشکری کا وطیرہ اختیار کیا تو اس کا عذاب شدید ترین ہوگا۔ صبر کا معنی مصیبت میں حوصلہ رکھنا اور دین کے بتلائے ہوئے راستے پر مستقل مزاجی کے ساتھ گامزن رہنا ہے۔ شکر کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ اس کی فرما نبرداری میں زندگی بسر کرنا۔ شکرکی مختصر تشریح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اقتدار دے تو رعایا کی خدمت بجالائے، مال دے تو اس کے بندوں پر خرچ کرے، علم عطا ہو تو لوگوں کی رہنمائی کرے۔ طاقت نصیب ہو تو لوگوں کی مدد کرے، صحت ہو تو اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنے کے ساتھ اس کے بندوں کی خدمت کرتا رہے۔ شکر کی اہمیت اور فوائد : اللہ تعالیٰ کے احسانات کا اظہار اور اس کی نعمتوں کا اعتراف اور شکر کرنا مشکلات سے محفوظ رہنے کا طریقہ ہے، مزید ملنے کی گارنٹی اور زوال نعمت سے مامون رہنے کی ضمانت ہے، شکررب کی بارگاہ میں نہایت پسندیدہ عمل ہے، اس کے مقابلہ میں ناشکری کفر کے مترادف ہے۔ (بَلِ اللّٰہَ فَاعْبُدْ وَ کُنْ مِّنَ الشّٰکِرِیْنَ) [ الزمر : ٦٦] ” پس اللہ کی عبادت کرتے ہوئے شکر گزاربندوں میں شامل ہوجائیے۔“ (أَنِ اشْکُرْ لِیْ وَلِوَالِدَیْکَ إِلَیَّ الْمَصِیْرُ) [ لقمان : ١٤] ” میرا اور اپنے والدین کا شکریہ ادا کرتے رہیے‘ بالآخر تم نے میری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے۔“ (لإَِنْ شَکَرْتُمْ لَأَزِیْدَنَّکُمْ) [ ابراہیم : ٧] ” اگر تم شکرکا رویہ اپناؤ گے تو ہر صورت مزید عنایات پاؤگے۔“ (مَایَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمْ إِنْ شَکَرْتُمْ وَآمَنْتُمْ وَکَان اللّٰہُ شَاکِرًا عَلِیْمًا) [ النساء : ١٤٧] ” اللہ کو تمہیں سزا دینے سے کیا فائدہ، اگر تم شکر اور تسلیمات کا انداز اختیار کرو۔ اللہ تونہایت ہی قدر افزائی کرنے والاہے۔“ (عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ (رض) قَالَ أَخَذَ بِیَدِیْ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ إِنِّیْ لَأُحِبُّکَ یَا مُعَاذُ فَقُلْتُ وَأَنَا أُحِبُّکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَلاَ تَدَعْ أَنْ تَقُوْلَ فِیْ کُلِّ صَلاَۃٍ رَبِّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ )[ سنن النسائی : باب نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الدُّعَآءِ] ” حضرت معاذبن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے معاذ! میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔ میں نے عرض کی اللہ کے رسول میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نماز کے بعد اس دعا کو پڑھنا نہ چھوڑنا اے میرے پروردگار ! ذکر، شکر اور اچھی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں کو مزید دیتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کے انعام کی ناشکری نہیں کرنی چاہیے۔ ٣۔ ناشکری کرنے والوں کے لیے سخت عذاب ہے۔ ٤۔ شکر کے مقابلہ میں کفر ہے۔ تفسیر بالقرآن صبر اور شکر کی فضیلت : ١۔ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دوں گا۔ (ابراہیم : ٧) ٢۔ اللہ شکر گزار بندوں کا قدرد ان ہے (النساء : ١٤٧) ٣۔ اگر تم اس کا شکریہ ادا کرو تو وہ تم پر خوش ہوگا۔ (الزمر : ٧) ٤۔ اللہ شکر کرنے والوں کو جزادے گا۔ (آل عمران : ١٤٤) ٥۔ اگر تم اللہ کا شکریہ ادا کرو گے تو وہ تمہیں عذاب نہیں کرے گا۔ (النساء : ١٤٧)