سورة الرعد - آیت 8

اللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ ۖ وَكُلُّ شَيْءٍ عِندَهُ بِمِقْدَارٍ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اللہ تو وہ ہے کہ ہر ایک مادہ جو کچھ اپنے پیٹ میں اٹھائے ہوئے [١٣] ہے اسے جانتا ہے اور جو کچھ ان کے پیٹوں میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے وہ اسے بھی جانتا ہے اور اس کے ہاں ہر چیز کی ایک مقدار مقرر ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ آیت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ہادی ہیں لہٰذا لوگوں کو سمجھاتے جائیں۔ جہاں تک ان کے مال اور اعمال کا تعلق اللہ تعالیٰ ہر انسان کو اس کی پیدائش کے وقت سے جاتا اور اس کی نگرانی کر رہا ہے۔ اس عقیدہ کا تقاضا ہے کہ آدمی آخرت پر ایمان لائے اور ہر وقت اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کو یہ باور کرواتا ہے کہ اے انسان! تجھے کسی وقت بھی یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ میں تیری حرکات وسکنات سے بے خبر ہوں بلکہ میں تجھے اس وقت سے جان رہا ہوں جب تیرا تخم ماں کے رحم میں داخل ہوا تھا۔ پرانی طب اور جدید میڈیکل سائنس اس بات پر متفق ہیں کہ جب میاں بیوی کا آپس میں ملاپ ہوتا ہے تو مرد کے مادہ منویہ میں جو جرثومے ہوتے ہیں وہ عورت کے بیضا سے مل کر رحم میں داخل ہوجاتے ہیں پھر ان کا آپس میں ملاپ ہوتا ہے جس سے انسان کی تخلیق کی ابتدا ہوتی ہے۔ قرآن مجید اس کی اجمالی تفسیر بیان کرتا ہے پھر یہ قرآن کی زبان میں نطفہ امشاج (مخلوط نطفہ) ماں کے رحم میں ایک محفوظ مقام پر جا کر ٹھہر جاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس نطفہ کو لوتھڑے میں تبدیل کرتا ہے اس کے بعد اسے ایک گوشت کے ٹکڑے کی شکل دیتا ہے، پھر اس میں نہایت ہی باریک اور لطیف ہڈیاں تیار کرتا ہے اور پھر اس کے بعد ہڈیوں کو گوشت پہناتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اسے انسان کی شکل میں پیدا کرتا ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ بہترین پیدا کرنے والا ہے۔ (المومنون : ١٤) ” پھر انسان دنیا میں اپنی عمر گزارنے کے بعد فوت کیا جاتا ہے پھر سب کے مرنے کے بعد اللہ قیامت کے دن سب کو اٹھائے گا۔“ (المومنون : ١٣ تا ١٦) دوسرے مقام پر اسے یوں بیان کیا ہے کہ ” اللہ کی ذات سے زمین و آسمان میں کوئی چیز پوشیدہ نہیں، وہی ماؤں کے رحم میں تمہاری شکل وصورت بناتا ہے جس طرح وہ پسند کرتا ہے پس وہی معبود برحق ہے اور ہر چیز پر غالب حکمت والاہے۔“ (آل عمران : ٥ تا ٦) ” حضرت عبداللہ بن سالم اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا غیب کی پانچ چابیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو قیامت کا علم ہے اور وہی بارش نازل کرتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ رحم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مادر میں کیا ہے ؟ کوئی نہیں جانتا کہ اس نے کل کیا کرنا ہے ؟ اور کسی کو علم نہیں کہ اسے کس سرزمین پر موت آئے گی۔ یقیناً اللہ جاننے والا، خبر رکھنے والا ہے۔“ [ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب وَعِنْدَہُ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لاَ یَعْلَمُہَا إِلاَّ ہُوْ] مسائل ١۔ ہر مادہ کا حمل اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ ٢۔ رِحم میں جو کمی و بیشی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اس سے آگاہ ہے۔ ٣۔ ہر چیز کی مقدار اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ پوشیدہ اور ظاہر کو جانتا ہے۔ ٥۔ رات کے اندھیروں اور دن کے اجالوں میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ کے علم میں ہے۔ تفسیر بالقرآن غائب اور ظاہر کو جاننے والی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے : ١۔ اللہ کے لیے غیب اور ظاہر برا برہیں وہ ہر چیز کو جانتا ہے وہ پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا ہے، بلندو بالا اور عالی شان والا ہے۔ (الرعد : ٩) ٢۔ اچھی طرح ذہن نشین کر لوکہ اللہ پوشیدہ اور آہستہ کہی ہوئی بات کو جانتا ہے۔ (طہ : ٧) ٣۔ اللہ جانتا ہے جو تم چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو۔ (النحل : ١٩) ٤۔ اللہ آسمان و زمین کے رازوں سے واقف ہے۔ (الفرقان : ٦) ٥۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔ (البقرۃ : ٧٧)