سورة ھود - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

بسم اللہ الرحمن الرحیم تعارف سورۃ ھود اس سورۃ مبارکہ میں حضرت ھود (علیہ السلام) کا ذکر قدرے تفصیل کے ساتھ پایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے اس سورت کا نام سورۃ ھود رکھا گیا۔ اس کا نزول مکہ معظمہ میں ہوا۔ یہ سورت (١٢٣) آیات پر مشتمل ہے۔ اس میں قرآن مجید کا تعارف کروانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دی گئی ہے۔ اللہ کی توحید کی دعوت دینے کے ساتھ لوگوں کو حکم دیا گیا ہے کہ اگر وہ توبہ استغفار کا راستہ اختیار کریں تو انہیں دنیا میں بھی عزت و عظمت عطا کی جائے گی۔ جو لوگ توبہ استغفار کا راستہ اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں تو انہیں قیامت کے دن کی ہولناکیوں کے بارے میں متنبہ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رزاق ہونے کے دلائل دیے ہیں۔ ساتھ ہی شکوہ کیا ہے کہ انسان کو تکلیف پہنچے تو اپنے رب سے مایوسی کا اظہار کرتا ہے۔ اگر اسے فضل و کرم سے نوازا جائے تو وہ فخر و غرور کا اظہار کرتا ہے اس کے بعد۔ قرآن مجید کے بارے میں چیلنج دیا گیا ہے کہ اگر تم اس کو من جانب من اللہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تو قرآن مجید کی کسی دس سورتوں کے مقابلے میں ان جیسی سورتیں بنا کر لاؤ۔ اگر تم یہ چیلنج قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تو تمہیں کھلے دل کے ساتھ اعتراف کرنا چاہیے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اس سورت کے تیسرے اور چوتھے رکوع میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی بے مثال جدوجہد کا تذکرہ کرنے کے بعد ان کی قوم کا انجام ذکر کیا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد حضرت ھود کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے بھی اپنی قوم کو یہ بات ارشاد فرمائی تھی کہ اگر تم توبہ استغفار کا راستہ اختیار کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں معاشی طور پر مستحکم فرمائے گا۔ لیکن ان کی قوم نے اپنے رب کے حضور توبہ استغفار کرنے کی بجائے سرکشی اور نافرمانی کا راستہ اختیار کیا۔ جس کے نتیجہ میں اس قوم پر اللہ کی پھٹکار نازل ہوئی اور اسے نیست و نابود کردیا گیا۔ قوم ھود کے بعد حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کا انجام بیان کیا گیا ہے۔ قوم صالح کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس فرشتوں کی آمد، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ان سے خوفزدہ ہونا ملائکہ کا خوشخبری دینا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بیٹا اور پوتا عنایت فرمائیں گے۔ ان سے فارغ ہونے کے بعد ملائکہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس جاتے ہیں۔ لوط (علیہ السلام) کی قوم ہم جنسی کے جرم میں ملوث تھی۔ ملائکہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس خوبصورت لڑکوں کی شکل میں آئے۔ قوم نے مہمانوں کے ساتھ بدکرداری کا ارادہ کیا جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے ملائکہ نے پوری بستی کو اٹھا کر آسمان کے قریب لے جا کر زمین پر دے مارا اور ان پر پتھروں کی بارش برسائی۔ قوم لوط کی تباہی کے تذکرہ کے بعد حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کے کردار کا بیان کیا ہے۔ جو لین دین اور ماپ تول میں خیانت کی مرتکب ہونے کے ساتھ شرک میں مبتلا تھی۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے انھیں منع کیا تو قوم نے طعنہ دیا کہ اے شعیب تیری نمازیں تجھے یہی کچھ سکھاتی ہیں کہ ہم اپنے باپ دادا کے طریقہ کو چھوڑ دیں۔ جب قوم باز نہ آئی تو چیخ نے آلیا جس کی وجہ سے وہ صبح کے وقت اپنے گھروں میں اوندھے منہ تباہی کے گھاٹ اتر گئے۔ سورۃ ھود کا اختتام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی کشمکش کے بیان پر ہوا۔ ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! انجام کار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر تم دنیا و آخرت میں اچھا انجام چاہتے ہو تو پھر ایک اللہ کی عبادت کرو اور اسی کی ذات پر بھروسہ کرو۔ ہمیشہ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں ہے۔ وہ تمہارے احوال سے لمحہ لمحہ آگاہ رہتا ہے۔ ( عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ قَالَ أَبُوْ بَکْرِ الصِّدِیْقِ سَأَلْتُ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَا شَیْبَکَ ؟ قَالَ سُوْرَۃُ ہُوْدٍ وَالْوَاقِعَۃِ وَالْمُرْسَلاَتِ وَ عَمَّ یَتَسَاءَ لُوْنَ وَ إِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ) [ المستد رک للحاکم] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق (رض) نے ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کی۔ اللہ کے محبوب پیغمبر آپ کو کس چیز نے بوڑھا کردیا ہے؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے سورۃ ھود، الواقعۃ، المرسلات، عما یتساء لون، اذا الشمس کورت نے بوڑھا کردیا ہے۔“