سورة البقرة - آیت 102

وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ ۚ وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ ۚ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنفُسَهُمْ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور یہ یہود (تورات کے بجائے) ان جنتروں منتروں کے پیچھے لگ گئے۔ جو سیدنا سلیمان کے دور حکومت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے۔ سیدنا سلیمان نے ایسا کفر کبھی نہیں کیا بلکہ کفر تو وہ شیطان [١١٨] لوگ کرتے تھے جو لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ نیز یہ یہود اس چیز کے بھی پیچھے لگ گئے جو بابل میں ہاروت [١١٩] اور ماروت دو فرشتوں پر اتاری گئی تھی۔ یہ فرشتے کسی کو کچھ نہ سکھاتے جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو تمہارے لیے آزمائش ہیں سو تو کافر نہ بن۔ پھر بھی یہ لوگ ان سے ایسی باتیں سیکھتے جن سے وہ مرد اور اس کی بیوی کے [١٢٠] درمیان جدائی ڈال سکیں۔ حالانکہ وہ اللہ کے حکم کے بغیر کسی کو بھی نقصان نہ پہنچا سکتے تھے۔ اور باتیں بھی ایسی سیکھتے [١٢١] جو انہیں دکھ ہی دیں، فائدہ نہ دیں۔ اور وہ یہ بات بھی خوب جانتے تھے کہ جو ایسی باتوں کا خریدار بنا، اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں کتنی بری چیز تھی جسے انہوں نے اپنی جانوں کے عوض خریدا۔ کاش وہ اس بات کو جانتے ہوتے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب اپنے باطل نظریات کو ہی انبیاء کی طرف منسوب نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی بد اعمالیاں بھی انبیاء کے ذمہ لگاتے ہیں جیسے کہ انہوں نے جادو کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ذمہ لگا رکھا ہے۔ آیت کے پہلے حصے کے بارے میں بنی اسرائیل کی روایات کی بنا پر بعض مفسرین نے بڑی بے ہودہ باتیں درج کی ہیں جن کا عقل و نقل کے ساتھ دور کا بھی واسطہ دکھائی نہیں دیتا البتہ بنیادی اختلاف اہل علم کا یہ ہے کہ جو لوگ دوسرے ” ما“ کو نافیہ بناتے ہیں ان کے نزدیک معنٰی یہ بنتا ہے کہ ہاروت اور ماروت فرشتے ہونے کی بجائے شیطان تھے۔ جن کے ہاں لفظ ” ما“ موصولہ ہے وہ سمجھتے ہیں کہ جادو فرشتوں پر نازل کیا گیا تھا۔ ہم دونوں تفاسیر پیش کررہے ہیں تاکہ قارئین کو دونوں کا نقطۂ نگاہ سمجھنے میں آ سانی ہو۔ ہمارے نزدیک قرآن مجید کا یہ مقام بھی مشتبہات میں سے ہے۔ تفہیم القرآن : اس آیت کی تاویل میں مختلف اقوال ہیں مگر جو کچھ میں نے سمجھا ہے وہ یہ ہے کہ جس زمانے میں بنی اسرائیل کی پوری قوم بابل میں قیدی اور غلام بنی ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے دو فرشتوں کو انسانی شکل میں ان کی آزمائش کے لیے بھیجا ہوگا۔ جس طرح قوم لوط کے پاس فرشتے خوبصورت لڑکوں کی شکل میں گئے تھے‘ اسی طرح ان اسرائیلیوں کے پاس وہ پیروں اور فقیروں کی شکل میں گئے ہوں گے۔ وہاں ایک طرف انہوں نے بازار ساحری میں اپنی دکان لگائی ہوگی اور دوسری طرف وہ اتمام حجت کے لیے ہر ایک کو خبردار بھی کرتے ہوں گے کہ دیکھو‘ ہم تمہارے لیے آزمائش کی حیثیت رکھتے ہیں‘ تم اپنی عاقبت خراب نہ کرو۔ مگر اس کے باوجود لوگ ان کے پیش کردہ عملیات اور نقوش و تعویذات پر ٹوٹ پڑتے ہوں گے۔ فرشتوں کے انسانی شکل میں آ کر کام کرنے پر کسی کو حیرت نہ ہو۔ وہ سلطنتِ الٰہی کے کار پرداز ہیں۔ اپنے فرائضِ منصبی کے سلسلے میں جس وقت جو صورت اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے وہ اسے اختیار کرسکتے ہیں۔ ہمیں کیا خبر کہ اس وقت بھی ہمارے گردو پیش کتنے فرشتے انسانی شکل میں آ کر کام کر جاتے ہوں گے۔ رہا فرشتوں کا ایک ایسی چیز سکھانا جو بجائے خود بری تھی‘ تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے پولیس کے بے وردی سپاہی کسی رشوت خوار حاکم کو نشان زدہ سِکّے اور نوٹ رشوت کے طور پر دیتے ہیں تاکہ اسے عین حالت ارتکاب جرم میں پکڑیں اور اس کے لیے بے گناہی کے عذر کی گنجائش باقی نہ رہنے دیں۔ تفسیر ثنائی : جو ترجمہ میں نے اختیار کیا ہے وہی قرطبی نے پسند کیا ہے۔ چنانچہ تفسیر ابن کثیر اور فتح البیان وغیرہ میں مذکور ہے مولانا نواب محمد صدیق حسن خان صاحب مرحوم نے بھی نقل کیا ہے بلکہ ترجیح دی ہے کہ ہاروت وماروت شیاطین سے بدل ہے جس کو دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ شیاطین سے دو شخص ہاروت وماروت مراد ہیں۔ اگر قرآن مجید کی آیات پر غور کریں تو یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ پہلی آیات میں خدا نے شیاطین کا فعل تعلیم سحر فرمایا ہے ” یُعَلِّمُوْنَ النَّاس السِّحْرَ“ دوسری میں اسی تعلیم سحر کی کیفیت بتلائی ہے یعنی ” وَمَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰی یَقُوْلَآ“ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دونوں تعلیمات کے معلم ایک ہی ہے یعنی شیاطین، کیونکہ یہ نہایت قبیح اور فصاحت کے خلاف ہے کہ مجمل فعل کے ذکر کے موقع پر تو ایک کو فاعل بتلایا جائے اور تفصیل کے موقع پر کسی اور کو بتلایا جائے۔ رہا یہ سوال کہ یہ مبدل منہ جمع ہے یعنی شیاطین اور بدل تثنیہ ہے یعنی ہاروت ماروت سو اس کا جواب یہ ہے کہ مبدل میں جمعیت با عتبار اتباع کے ہیں اور بدل تثنیہ با عتبار ذات کے ہے۔ ضیاء القرآن : اس آیت میں دو احتمال ہیں پہلا یہ کہ اس میں ” ما“ نا فیہ ہے اور یہ جملہ معترضہ ہے۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہود کا یہ کہنا کہ جادو بھی آسمان سے فرشتوں پر نازل ہوا اور فرشتوں نے ہی ہمیں یہ سکھایا۔ اس لیے یہ بھی صحائف آسمانی کی طرح آسمانی چیز ہے اور مقدس ہے۔ یہود کا یہ کہنا سراسر باطل ہے ”َوَمَا اُنْزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْنِ“ فرشتوں پر ہرگز کوئی جادو نازل نہیں کیا گیا۔ ہاروت اور ماروت بدل بعض ہوگا شیاطین سے یعنی شیاطین جن کے دو سر کردوں کے نام ہاروت اور ماروت ہیں وہ جادو سکھایا کرتے تھے۔ علامہ قرطبی (رض) نے لکھا ہے ” ہٰذَا أَوْلٰی مَاحَمِلَتْ عَلَیْہِ الْاٰیَۃِ مِنَ التَّاْوِیْلِ وَ اَصَحَّ مَا قِیْلَ فِیْہَا وَلاَ یَلْتَفِتُ اِلٰی سِوَاہٍ“ یعنی آیت کی یہی تاویل کرنا چاہیے۔ یہی سب سے زیادہ صحیح قول ہے اور اس کے علاوہ کسی قول کی طرف التفات نہ کرنا چاہیے۔ واقعی اس تاویل سے کئی شبہات کا ازالہ ہوجاتا ہے۔ لیکن جمہور علماء کا قول یہ ہے کہ ” مَا اُنْزِلَ“ میں ما موصولہ ہے اور اس کا عطف اتِبَّعُوْا کے تحت ہے یعنی یہودی فلسطین میں مروج جادو پر بھی عمل پیرا تھے اور جب بخت نصربیت المقدس کو تاخت وتاراج کرنے کے بعد بنی اسرائیل کو جنگی قیدی بنا کر بابل لے گیا تو بجائے اس کے کہ اس کفر و الحاد کی بجائے دنیا میں وہ توحید کی تبلیغ کرتے الٹا وہاں کے لوگوں سے انہوں نے جادو سیکھا اور اس پر بھی عمل پیرا ہوئے۔ اب یہاں یہ خدشہ ہوتا ہے کہ ہاروت و ماروت جو معصوم فرشتے تھے انہیں کیونکر جادو کی تعلیم دینے کے لیے بابل میں اتارا گیا۔ تو اس کی حکمت یہ بیان کی گئی ہے کہ اس وقت ساری دنیا میں خصوصاً بابل کی مملکت میں جادو کا بہت رواج تھا۔ جادو کے زور سے لوگ طرح طرح کے کرشمے دکھاتے جس سے سادہ لوح لوگ دنگ رہ جاتے تھے۔ ان کے نزدیک جادو اور معجزہ میں کوئی فرق نہیں رہ گیا تھا۔ بلکہ وہ جادو کو علم کی ایک مفید ترین شاخ تصور کرنے لگے تھے اور جادو گروں کو مقدس ماننے لگے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے دو فرشتے نازل کیے جو لوگوں کو جادو کی اصلیت سے آگاہ کریں تاکہ وہ آسانی سے جادو کی فریب کاری اور معجزہ کی حقیقت میں تمیز کرسکیں اور اگر انہوں نے جادو سیکھ کر اس پر عمل کرنا شروع کردیا تو یہ ان کی اپنی غلطی تھی۔ فرشتے تو انہیں صاف طور پر بتا دیتے کہ ہمیں تو فقط تمہاری آزمائش کے لیے بھیجا گیا ہے۔ اگر تم نے جادو پر عمل شروع کردیا تو خوب سن لو کہ ایمان رخصت ہوجائے گا اور کافر ہوجاؤ گے۔ فہم القرآن : قرآن مجید یہودیوں کی تاریخ کا تذکرہ کرتے ہوئے بتلاتا ہے کہ یہودی اس قدر دولت انصاف سے تہی دامن ہوگئے کہ اپنی حمایت میں آنے والے پیغمبروں کی تائید بھی ان کی طبیعتوں پر گراں اور ناگوار ثابت ہوئی اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اس طرح پس پشت ڈالا اور اس حد تک لا پرواہی کا مظاہرہ کیا جیسا کہ کتاب ہدایت کے ساتھ ان کی کبھی نسبت ہی نہیں تھی۔ آسمانی ہدایت سے محروم ہونے کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ وہ جادو اور کفریہ وظائف کرنے لگے اور پھر اس کو عظیم پیغمبر اور منصف ترین حکمران جناب سلیمان (علیہ السلام) کے دامن پاک پر یہ کہہ کر داغ لگانے کی کوشش کی کہ وہ بھی تو جادو کے ذریعے ہی ہواؤں اور فضاؤں پر حکومت کیا کرتے تھے۔ جس کی وضاحت کرتے ہوئے اس کتاب عظیم میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی صفائی پیش کرنے کے ساتھ جادو کی حقیقت بتلائی جارہی ہے کہ جادو تو کفر ہے اور سلیمان (علیہ السلام) ہرگز ایسا نہیں کرسکتے تھے۔ جادو کی تاریخ : اہل لغت‘ مفسرین اور محدثین نے تحریر فرمایا ہے کہ جادو ایسا عجیب و غریب علم اور فن ہے جس سے سب سے پہلے لوگوں کی فکر ونظر کو متاثر کیا جاتا ہے اسی بناء پر انبیاء کرام (علیہ السلام) پر لگنے والے الزامات میں ایک سنگین الزام یہ بھی ہوا کرتا تھا کہ یہ رسول نہیں بلکہ جادو گر ہے۔ انبیاء کے مخالف اسی الزام کی بنیاد پر بہت سے لوگوں کو ان سے دور رکھنے میں کامیاب ہوا کرتے تھے کیونکہ ہر نبی کی گفتگو اس قدر مؤثر اور مدلّل ہوا کرتی تھی جس سے لوگوں کی سوچ کے زاویے تبدیل ہوجایا کرتے تھے اس لیے مخالف یہ کہہ کر لوگوں میں پروپیگنڈا کرتے کہ اس نبی کے قریب ہونے کی کوشش نہ کرنا کیونکہ اس کی زبان میں جادو ہے۔ جادو کا معنٰی : عربی ڈکشنری کے حوالے سے اہل لغت نے سحر کے کئی معانی بیان کیے ہیں۔ سحر ایسا عمل جس کے ذریعے شیطان کی قربت یا اس کی مدد طلب کی جائے۔ الازھری کا خیال ہے کسی چیز کو اس کی اصلیت سے بدل دینے کا نام سحر ہے (تہذیب اللغتہ) صاحب المعجم الوسیط سحرکا مطلب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ایسا علم جس کی بنیاد انتہائی لطیف ہو۔ محیط المحیط کے مصنف لکھتے ہیں کہ سحر ایسا فن ہے جس سے کسی چیز کو اس طرح پیش کیا جائے جس سے لوگ ششدر رہ جائیں۔ شریعت کے حوالے سے علماء نے جادو کی مختلف تشریحات کی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے : ( اَلسِّحْرُ ہُوَ عَقْدٌ وَرُقیً وَکَلَامٌ یُتَکَلَّمُ بِہٖ اَوْ یَکْتُبُہُ اَوْیَعْمَلُ شَیْءًا یُؤَ ثَّرُ فِیْ بَدَنِ الْمَسْحُوْرِ اَوْ قَلْبِہٖ اَوْ عَقْلِہٖ) (المغنی لابن قدامہ ) ” جادو! گرہ، دم اور ایسی تحریر یا حرکات پر مشتمل ہوتا ہے جس کے ذریعے دوسرے کے وجود اور دل و دماغ پر اثر انداز ہوا جاتا ہے۔“ علامہ ابن قیم (رض) جادو کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ( وَالسِّحْرُہُوَ مُرَکَّبُ ٗ مِّنْ تَأْ ثِیْرَاتِ الْاَرْوَاحِ الْخَبِیْثَۃِ وَانْفِعَالِ الْقُوَی الطَّبِیْعِیَّۃِ عَنْھَا) (زادالمعاد) ” جادو خبیث جنات کے ذریعے کیا جاتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے علاوہ خبیث جنات سے مدد طلب کی جاتی ہے۔ جس سے لوگوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔“ جادو کی اقسام : مشہور مفسر امام رازی (رض) نے جادو کو آٹھ قسموں میں تقسیم کیا ہے۔ ان کی تقسیم سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں جادوگروں نے اپنے فن کے لیے کون کون سے طریقے ایجاد کر رکھے تھے۔ جادو کوئی مستقل اور مستند علم نہیں کہ جس کو کرنے کے لیے کوئی خاص طریقہ متعین کیا گیا ہو کیونکہ جادو تصنّع بازی کا نام ہے اس لیے ہر دور میں اس کی کرشمہ سازی اور اثر انگیزی میں اضافہ کرنے کے لیے نئے نئے طریقے ایجاد کیے گئے۔ مندرجہ بالا بحث کا خلاصہ : ١۔ کفر یہ، شرکیہ الفاظ کے ہیر پھیر کے ذریعے جادو کرنا۔ ٢۔ برے لوگوں، خبیث جنّات اور شیاطین کے ذریعے کسی پر اثر انداز ہونا۔ ٣۔ علم نجوم کے ذریعے غیب کی خبریں دینا اور دوسرے کو متاثر کرنا۔ ٤۔ توجہ سمریزم کی مخصوص حرکات، (ہیپناٹزم) کے ساتھ حواس خمسہ کو قابو کرنا۔ جادو کے انگلش میں نام : کالا جادو Black Magic سفید جادو White Magic قوت ارادی Will Power توجہ مرکوز کرنا Concentrate Pay heed, Pay attention مسمریزم Spell pound Force to concentrate by magic توجہ دینا‘ توجہ دلانا Concentrate= Focus = جادوگر بننے کے گھٹیا طریقے : غلط و ظائف، بھرپور شعبدہ بازی اور فنی مہارت کے باوجود جادوگر اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک جادوگر اللہ تعالیٰ کی کسی حلال کردہ چیز کو اپنے لیے حرام قرار نہ دے۔ اس کے ساتھ ہی اسے خاص قسم کی غلاظت اور بدترین قسم کا گناہ کرنا پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے جادوگرمرد ہو یا عورت اس سے خاص قسم کی بو آیا کرتی ہے۔ یہ لوگ جسمانی طور پر جس قدر گندے ہوں گے اسی رفتار سے ان کے شیطانی عمل دوسروں پر اثرانداز ہوں گے یہی وجہ ہے کہ ایک جادوگر اپنے شاگرد کو اپنا پیشاب پینے کا سبق دیتا ہے اور دوسرا پاخانہ کھانے کا حکم دیتا ہے اور کوئی غسل واجب سے منع کرتا ہے۔ گویا کہ کوئی نہ کوئی غلاظت اختیار کرنا جادوگر کے لیے ضروری ہے۔ البتہ آج کل لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے اس قسم کی باتیں چھپاتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے بغیر جادو اثرانداز نہیں ہوتا۔ بے شک جادہ کتنا اچھا لباس پہنے ہوئے ہو۔ اس طرح ہی جادو کفریہ اور شرکیہ وظائف کے بغیر اثر انداز نہیں ہوتا۔ جادو کی فتنہ انگیزیاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جادو سے خوف زدہ ہوگئے : (وَجَآء السَّحَرَۃُ فِرْعَوْنَ قَالُوْا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ کُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ قَالَ نَعَمْ وَاِنَّکُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ۔ قَالُوْ ا یَامُوْسٰٓی اِمَّا اَنْ تُلْقِیَ وَاِمَّا اَنْ نَّکُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ۔ قَالَ اَلْقُوْا فَلَمَّا اَلْقَوْا سَحَرُوْا اَعْیُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْہَبُوْ ھُمْ وَجَآءُ وْا بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ) (الاعراف : ١١٣ تا ١١٦) ” جادوگر فرعون کے پاس آکر کہنے لگے اگر ہم غالب آگئے تو کیا ہمیں صلہ بھی ملے گا؟ فرعون نے کہا ہاں میرے دربار میں منصب ملیں گے۔ پھر جادو گر کہنے لگے موسیٰ تم پھینکتے ہو یا ہم پھینکیں؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تم ہی ڈالو۔ پھر انہوں نے اپنی رسیاں وغیرہ پھینکیں تو انہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور لوگ ان سے دہشت زدہ ہوگئے کیونکہ وہ زبردست جادو کے ساتھ آئے تھے۔“ (فَاَجْمِعُوْاکَیْدَ کُمْ ثُمَّ اءْتُوْا صَفًّا وَقَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰی . قَالُوْا یٰمُوْسٰٓی اِمَّا اَنْ تُلْقِیَ وَاِمَّا اَنْ نَّکُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰٰی۔ قَالَ بَلْ اَلْقُوْا فَاِذَا حِبَالُھُم وَعِصِیُّھُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْہِ مِنْ سِحْرِہِمْ اَنَّھَا تَسْعٰی۔ فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِہٖ خِیْفَۃً مُّوْسٰی۔ قُلْنَا لَاتَخَفْ اِنَّّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی) ( طٰہٰ: ٦٤ تا ٦٨) ” اپنی سب تدبیریں جمع کرو اور متحد ہو کر مقابلہ میں آؤ اور سمجھ لو کہ آج جو غالب رہا وہ جیت گیا۔ کہنے لگے موسیٰ تم ڈالتے ہو یا پہلے ہم ڈالیں؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تم ہی ڈالو“ پھر ان کے جادو کے اثر سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان کی رسیاں اور لاٹھیاں یک دم دوڑنے لگی ہیں۔ یہ دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) اپنے دل میں خوف زدہ ہوگئے ہم نے موسیٰ سے کہا ڈرو نہیں تم ہی غالب رہو گے۔“ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کے اثرات : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر مبارک تقریباً ٦٠ سال ہوچکی تھی یہود و نصاریٰ اور اہل مکہ ہر طرف سے ناکام و نامراد ہوگئے۔ تب اہل یہود نے آپ کی ذات پر جادو کے ذریعے اثر انداز ہونے کی کوشش کی جس کے لیے لبیدبن اعصم نے اپنی بہنوں یا بیٹیوں سے مل کر کسی طریقے سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر مبارک کے بال حاصل کیے اور ان میں گرہیں ڈالتے ہوئے کھجور کے گابے کا ایک پتلا بنا کر ہر گرہ میں ایک ایک سوئی داخل کردی اور ان پر جادو کیا۔ اس جادو کے اثرات کی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طبیعت ایک مہینہ تک مضمحل رہی۔ اس تکلیف کے آخری ایام میں آپ رات کو بھی بے سکونی محسوس کرتے تھے۔ اس کیفیت کو حضرت عائشہ صدیقہ (رض) اس طرح بیان کرتی ہیں کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صلح حدیبیہ سے واپس لوٹے تو آپ پر جادو کا شدید ترین حملہ ہوا جس کا آپ کے ذہن پر یہ اثرہواکہ آپ خیال کرتے کہ میں یہ کام کرچکا ہوں جبکہ آپ نے وہ کام کیا نہیں ہوتا تھا۔ اس صورت حال میں آپ اللہ کے حضور اٹھتے بیٹھتے دعائیں کرتے، بالآخر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وحی کے ذریعے اس کربناک صورت حال سے آگاہ کردیا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں : عائشہ ! اللہ تعالیٰ نے مجھے اس تکلیف سے نکلنے کی تدبیر بتا دی ہے۔ اب میں اس سے شفایاب ہوجاؤں گا وہ اس طرح کہ میرے پاس خواب میں دو فرشتے آئے ان میں ایک میرے سر کی طرف اور دوسرا پاؤں کی طرف کھڑا ہوا۔ ایک نے دوسرے سے میری تکلیف کے بارے میں پوچھا۔ وہ جواب دیتا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جادو ہوگیا ہے۔ پہلے نے پوچھا جادو کس نے کیا ؟ دوسرے نے جواب دیا لبید بن اعصم یہودی نے۔ وہ پوچھتا ہے کہ کس چیز سے جادو کیا گیا ہے؟ دوسرے نے کہا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بالوں اور نرکھجور کے خوشے میں کیا گیا ہے۔ یہ کہاں رکھا گیا ہے؟ فلاں ویران کنویں میں رکھا ہوا ہے۔ اس خواب کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چند صحابہ کے ساتھ اس کنویں پر تشریف لے گئے۔ حضرت عائشہ (رض) کا فرمان ہے کہ اس کنویں کے درختوں سے بھی خوف محسوس ہوتا تھا۔ جب وہ پتلا وہاں سے نکالا گیا توحضرت جبرائیل امین تشریف لائے انہوں نے بالوں کی گرہیں کھولنے اور جادو کے اثرات ختم کرنے کے لیے فرمایا آپ سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کی ایک ایک آیت پڑھتے جائیں یہ گیارہ آیات ہیں اس طرح گیارہ گرہیں کھولتے ہوئے سوئیاں نکال دی جائیں۔ آپ کی نگرانی میں صحابہ کرام (رض) نے ایسا کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طبیعت اس طرح ہشاش بشاش ہوگئی جس طرح کسی جکڑے ہوئے انسان کو کھول دیا جائے۔ اس کے بعدآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معمول تھا کہ رات سوتے وقت ان سورتوں کی تلاوت کر کے جہاں تک آپ کے ہاتھ پہنچتے اپنے آپ کو دم کیا کرتے تھے جس کی تفصیل معوّذات کے باب میں بیان کی جائے گی۔ (رواہ البخاری : کتاب الطب، باب السحر) اس واقعہ پر ہونے والے اعتراضات اور ان کے جوابات : غیرمسلم اور منکرین حدیث اس واقعہ پر اعتراضات کرتے ہوئے درج ذیل سوالات اور شبہات پیدا کرتے ہیں : اعتراض : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کے اثرات تسلیم کرلیے جائیں تو کفار کے اس اعتراض کا جواب دینا مشکل ہوگا۔ ( وَقَال الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلاً مَّسْحُوْرًا۔) (الفرقان : ٨) ” اور ظالموں نے کہا کہ تم صرف ایک جادو کے مارے ہوئے آدمی کی پیروی کرتے ہو۔“ جواب : ١۔ اہل مکہ نے آپ پر جادو ہونے کا الزام نبوت کے ابتدائی دور میں لگایا تھا اور یہ واقعہ مدینہ طیبہ میں صلح حدیبیہ کے بعد نبوت کے بیسویں سال پیش آیا یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی شخص نے اپنی تائید کے لیے اوپر دلیل کو پیش نہیں کیا۔ ٢۔ نبی پر جادو ہونا ناممکن نہیں کیونکہ آپ زندگی میں بیمار بھی ہوئے اور غزوہ احد میں زخمی بھی ہوئے تھے بحیثیت انسان زندگی میں آپ کو متعدد بار روحانی پریشانیاں اور جسمانی تکالیف بھی اٹھانی پڑی تھیں۔ لہٰذا آپ پر جادو کا اثر انداز ہوناعقل وفکر اور فطرت کے خلاف نہیں۔ ٣۔ جادو کے اثرات نبوت کے امور پر اثر انداز نہیں ہوئے تھے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے کار نبوت کی ادائیگی کا ذمّہ لیا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس تکلیف کے دوران کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی مسئلہ پہلے سے الٹ بیان کردیا ہو۔ جادو، ٹونے کا شرعی علاج جو شخص جادو یا جنات کے اثرات محسوس کرے اسے درج ذیل اقدامات کرنے چاہییں۔ کیونکہ دین نے ایسا کرنے کی رہنمائی فرمائی ہے۔ طہارت کا اہتمام : طہارت اور صفائی کا خصوصی اہتمام کیا جائے اور ہر وقت باوضو رہنا سنّت بھی ہے اور مفید بھی۔ خوشبو کا استعمال : خوشبو سنت سمجھ کر لگائیں گے تو دنیا میں شفا اور آخرت میں جزا ملے گی۔ تلاوت قرآن مجید اور کثرت ذکر : ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے رہنا چاہیے خاص کر گھر میں قرآن مجید کی تلاوت اور نوافل پڑھنا۔ یاد رکھیے کہ قرآن مجید کی تلاوت کم از کم اتنی آواز میں ہونی چاہیے کہ پڑھنے والے کو قرآن مجید کے الفاظ سنائی دیں۔ دَم : سورۃ البقرۃ، آیت الکرسی اور آخری تین سورتیں یعنی معوذات کے ساتھ صبح‘ شام تین تین مرتبہ پڑھ کر اپنے آپ کو دم کرنا سنت ہے۔ مسلسل دعا : حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جب جادو ہوا تو آپ بار بار اللہ تعالیٰ سے جاد و کے اثرات کو ختم کرنے کی دعا کرتے تھے۔ لہٰذا ایسی صورت حال میں مریض کو اٹھتے بیٹھتے ہر وقت دل اور زبان سے اللہ کے حضور اس مصیبت سے نجات کی التجائیں کرنی چاہیں۔ اذان دینا : اثرات زدہ گھر میں اذان کہنی چاہیے کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ اذان سن کر شیطان دور بھاگ جاتا ہے۔ (۔۔ حوالہ لعنت بھیجنا : جادو کرنے، کروانے والے اور شیطان کو ذہن میں رکھتے ہوئے کثرت کے ساتھ درج ذیل الفاظ پڑھنا چاہییں کیونکہ جب نماز کی حالت میں ایک جن نے آگ کا بگولہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ مبارک کے قریب کیا تھا تو آپ نے اس پر یہ الفاظ کہے تھے (الفاظ حوالہ۔۔) آپ کا ارشاد ہے کہ جب کوئی لعنت کرنے والا لعنت کرتا ہے اگر واقعتا مظلوم ہے تو اس کی لعنت ظالم پر ضرور اثر انداز ہوگی۔ ” عَلَیْھِمْ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَآ ءِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ“ تفصیل کے لیے دیکھیے میری کتاب جادو کی تباہ کاریاں (عَنِ الْقَعْقَاعِ اَنَّ کَعْبَ الْاَحْبَارِ قَالَ لَوْلَاکَلِمَاتٌاَقُوْلُہُنَ لَجَعَلَتْنِیْ یَہُوْدُ حِمَارًافَقِیْلَ لَہٗ مَاہُنَّ قَالَ اَعُوْذُ بِوَجْہِ اللّٰہِ الْعَظَیْمِ الَّذِیْ لَیْسَ شَیْءٌ اَعْظَمَ مَنْہُ وَبِکَلِمَات اللّٰہِ التَّامَاتِ الَّتِیْ لَایُجَاوِزُہُنَّ بَرٌّ وَلَافَاجِرٌ وَبِاَسْمَاء اللّٰہِ الْحُسْنیٰ مَا عَلِمْتُ مِنْہَاوَمَالَمْ اَعْلَمُ مِنْ شَرِّ مَاخَلَقَ وَذَرَاءَ وَبَرَاءَ) (رواہ مالک۔۔) ” حضرت قعقاع (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت کعب احبار (رض) نے فرمایا اگر میں یہ دعا نہ پڑھتا ہوتا تو یہودی مجھے گدھا بنادیتے۔ حضرت کعب سے ان کلمات کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا وہ کلمات یہ ہیں : میں پناہ چاہتا ہوں تیرے عظیم چہرے کی بدولت جس سے بڑھ کر کوئی عظیم چیز نہیں اور اللہ کے ان کامل کلمات کے ساتھ جن سے کوئی نیک وفاجر سبقت نہیں لے جاسکتا اور اللہ کے اسمائے حسنیٰ کے ساتھ جو میں جانتا ہوں اور جو میں نہیں جانتا ہر اس چیز کی شر سے جسے اس نے پیدا کیا اور پھیلایا یا جس کے پاس سے میرا گزر ہوتا ہے۔“ مسائل ١۔ جادو کرنا اور سیکھنا کفر ہے۔ ٢۔ جادو گر شیطان سے مدد طلب کرتا ہے۔ ٣۔ جادو بذات خود کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ٤۔ جادوگرقیامت کے دن عذاب سے دوچار ہوگا۔ تفسیر بالقرآن جادو کیا ہے ؟: ١۔ جادوکفر ہے۔ (البقرۃ: ٢١٠٢۔ جادو کی اصلیت نہیں ہوتی۔ (الاعراف : ١١٦) ٣۔ جادو شیاطین کے ذریعے ہوتا ہے۔ (البقرۃ : ١٠٢) ٤۔ جادوگر کامیاب نہیں ہوتا۔ (طٰہٰ: ٦٩)