سورة الكهف - آیت 34

وَكَانَ لَهُ ثَمَرٌ فَقَالَ لِصَاحِبِهِ وَهُوَ يُحَاوِرُهُ أَنَا أَكْثَرُ مِنكَ مَالًا وَأَعَزُّ نَفَرًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

تب ایک دن (گھمنڈ میں آکر) اپنے دوست سے (جسے یہ خوشحالیاں میسر نہ تھیں) باتیں کرتے کرتے بول اٹھا دیکھو میں تم سے زیادہ مالدار ہوں اور میرا جتھا بھی بڑا طاقتور جتھا ہے۔

تفسیر القرآن کریم (تفسیر عبدالسلام بھٹوی) - حافظ عبدالسلام بن محمد

وَ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ ....: ’’ ثَمَرٌ ‘‘ کی تنوین تکثیر کے لیے ہے، یعنی اس کے علاوہ بھی اس کے پاس بہت سا پھل تھا یا بہت نفع تھا، کیونکہ نفع کو بھی ثمر کہہ لیتے ہیں۔ بعض مفسرین نے اس سے مراد اولاد لی ہے کہ کھیتوں اور باغوں کے علاوہ اس کی اولاد بھی بہت تھی۔ اس کی دلیل آگے مومن کا قول ہے : ﴿اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًا ﴾ [ الکہف : ۳۹ ] ’’اگر تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں مال اور اولاد میں تجھ سے کم تر ہوں۔‘‘ دوسرا آدمی مومن تھا مگر نادار تھا، اب اس کافر نے فخر سے گفتگو کرتے ہوئے اسے کہا، میرے پاس تم سے مال بھی زیادہ ہے اور آدمی بھی، یعنی اولاد، نوکر چاکر اور دوست۔ الغرض! اس بے ایمان نے اپنے مال و جاہ کے بھروسے پر مومن بھائی پر فخر کیا اور اسے اپنے باغات کا مشاہدہ کرانے کے لیے ساتھ لے چلا۔ (کبیر)