سورة الانفال - آیت 50

وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا ۙ الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور (اے مخاطب) اگر تو (اپنی آنکھوں سے) وہ حالت دیکھے جب فرشتے (ان) کافروں کی روحیں قبض کرتے اور ان کے چہروں اور پیٹھوں پر ضربیں لگاتے ہیں اور کہتے ہیں اب عذاب آتش کا مزہ چکھو (تو تیرا کیا حال ہو؟)

تفسیر القرآن کریم (تفسیر عبدالسلام بھٹوی) - حافظ عبدالسلام بن محمد

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ يَتَوَفَّى الَّذِيْنَ كَفَرُوا....: کفار کی زندگی کے بعض احوال بیان کرنے کے بعد ان کی موت کی حالت بیان کی ہے۔ یہ آیت یہاں اگرچہ واقعۂ بدر کے سلسلے میں آئی ہے، اس لیے بعض مفسرین نے اسے بدر کے کفار کا حال قرار دیا ہے، لیکن لفظ عام ہونے کی وجہ سے یہ ہر کافر کے مرنے کے وقت کا حال بیان ہو رہا ہے ۔ فرمایا کہ کافروں کی روح قبض کرتے وقت فرشتے جس طرح ان کے مونہوں اور پشتوں پر مارتے اور جس طرح جھڑکتے اور سختی کرتے ہیں، کاش! آپ وہ منظر دیکھ لیں، کیونکہ سننے میں وہ بات نہیں جو دیکھنے میں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ انعام (۹۳) اور سورۂ محمد (۲۷، ۲۸) میں یہی بات بیان فرمائی ہے اور احادیث میں کافر کی جان کنی کا منظر بہت ہی ہولناک بیان کیا گیا ہے۔