سورة الاعراف - آیت 31

يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(اور ہم نے حکم دیا تھا) اے اولاد آدم ! عبادت کے ہر موقع پر اپنے جسم کی زیب و زینت سے آراستہ رہا کرو۔ نیز کھاؤ پیو مگر حد سے نہ گزر جاؤ، خدا انہیں پسند نہیں کرتا جو حد سے گزر جانے والے ہیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(20) اس آیت کریمہ میں ان مشرکین عرب کی تردید کی گئی ہے جو بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر کرتے تھے۔ مسلم نسائی اور ابن ماجہ وغیر ہم نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ مرد اور عورت سبھی لوگ بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر کرتے تھے۔ مرد دن میں اور عورتیں رات میں، تو اللہ تعالیٰ یہ آیت نازل فرمائی، اس آیت اور اس کی ہم معنی احادیث کے پیش نظر نماز کے وقت اچھا لباس پہننا مستحب ہے، خاص طور پر جمعہ اور عید کے دن، اور خوشبو لگانا اس لیے کہ یہ زینت میں داخل ہے، اور مسواک کرنا اس لیے کہ اس کے ذریعہ زینت کی تکمیل ہوتی ہے، اور سب سے افضل سفید لباس ہے م جیسا کہ صحیح احادیث میں آیا ہے۔ (21') اللہ تعالیٰ نے بندوں کو کھانے اور پینے کا حکم دیا ہے اس لیے کہ اس کے بغیر آدمی زندہ نہیں رہ سکتا اور انہیں حد سے تجاوز کرنے سے منع کیا ہے، آیت میں " اسراف" سے اکل حرام، فضول خرچی اور کھانے پینے میں بد احتیاطی سبھی مراد ہیں، فضول خرچی اللہ کے نزدیک مغبوض صفت ہے، اور انسان کو محتاجی تک پہنچا دیتی ہے اور کھا نے پینے میں بد احتیاطی تمام بیماریوں کی جڑ ہے، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آدمی اپنے پیٹ سے زیادہ کوئی برا برتن نہیں بھرتا ہے، ابن آدم کے لیے چند لقمے کافی ہیں، جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں۔ اور اگر اتنا ہی ضرور ہو تو ایک تہائی کھانے کے لے ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس کے لیے۔ (مسند احمد، نسائی، ترمذی) کہتے ہیں کہ ہارون رشید کا ایک نصرانی طبیب تھا، اس نے زین العابدین علی بن الحسین سے کہا کہ آپ لوگ کی کتاب (قرآن )، میں علم طب کی کوئی بات نہیں ہے، حالانکہ علم کی دو قسمیں ہیں : علم ادیان اور علم ابداب، تو زین العابدین نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پورا طب قرآن کی آدھی آیت میں جمع کردیا ہے، اس نے پوچھا وہ کون سی آیت ہے ؟ انہوں نے کہا اللہ کا فرمان ہے : کھاؤ اور پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو۔