سورة الاعراف - آیت 6

فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

تو دیکھو یقینا ہم ان لوگوں سے بازپرس کریں گے جن کی طرف پیغمبر بھیجے گئے (کہ انہوں نے پیغمبروں کی دعوت پر کان دھرا یا نہیں) اور یقینا پیغمبروں سے بھی باز پرس ہوگی (کہ انہوں نے فرض رسالت ادا کیا یا نہیں)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(5) اللہ تعا جب قیامت کے دن تمام امتوں کو یہ فیصلہ کے لیے جمع کرے گا، تو وہ ہر امت ہر گروہ اور ہر فرد سے پوچھے گا کہ انہوں نے انبیاء ورسل کی دعوت کو کہاں تک قبول کیا، کیا وہ اس دین اور اس کتاب پر ایمان لائے تھے، جو انبیاء لے کر آئے تھے، کیا انہیوں نے توحید اور اللہ کی اطاعت وبندگی کے بارے میں ان کا پیغام قبول کیا تھا ؟ اور رسولوں سے بھی پوچھا جائے گا کہ کہا انہوں نے اللہ کا پیغام من وعن اور بے کم وکاست پہنچا دیا تھا؟۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان سب کو ان کے ظاہری اور پوشیدہ اعمال کی خبر دے گا، اور وہ لوگ کچھ بھی چھپا سکیں گے، اس لیے کہ اس سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے، وہ تو آنکھوں کی خیانت اور سینوں کے پوشیدہ راز تک کو جانتا ہے، اللہ تعالیٰ کا سوال ان پر صرف حجت قائم کرنے اور اظہار عدالت کے لیے ہوگا، اور کافروں اور سرکشوں کو جہنم میں داخل کرنے سے پہلے زجر وتوبیخ کے لیے ہوگا۔