سورة الانعام - آیت 139

وَقَالُوا مَا فِي بُطُونِ هَٰذِهِ الْأَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَىٰ أَزْوَاجِنَا ۖ وَإِن يَكُن مَّيْتَةً فَهُمْ فِيهِ شُرَكَاءُ ۚ سَيَجْزِيهِمْ وَصْفَهُمْ ۚ إِنَّهُ حَكِيمٌ عَلِيمٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

نیز وہ کہتے ہیں کہ : ان خاص چوپایوں کے پیٹ میں جو بچے ہیں وہ صرف ہمارے مردوں کے لیے مخصوص ہیں، اور ہماری عورتوں کے لیے حرام ہیں۔ اور اگر وہ بچہ مردہ پیدا ہو تو اس سے فائدہ اٹھانے میں سب (مرد و عورت) شریک ہوجاتے ہیں۔ (٧١) جو باتیں یہ لوگ بنا رہے ہیں، اللہ انہیں عنقریب ان کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ یقینا وہ حکمت کا بھی مالک ہے، علم کا بھی مالک۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(139) اس آیت کریمہ میں مشرکین عرب کی ایک اور گمراہی بیان کی گئی ہے کہ جب جانوروں کو وہ اپنے بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے، جن کا ذکر اوپر آچکا، ان کے بارے میں میں یہ شریعت ایجاد کرلی تھی کہ ان کا دودھ پینا، اور ان کے بچوں کا گوشت کھانا صرف مردوں کے لیے حلال ہے عورتوں کے لیے نہیں، چناچہ عورتیں نہ ان کا دودھ پیتیں اور نہ ان کے بچوں کا گوشت کھا تیں، ہاں اگر کوئی بچہ مردہ پیدا ہوتا تو اس گوشت مرد اور عورتیں سبھی کھاتے، یہ ان کی خود ساختہ شریعت تھی جسے انہوں نے اللہ کی کی طرف منسوب کر رکھا ہے تھا، جس پر نکیر کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا، کہ اللہ تعالیٰ انہیں عبقرین اس کا بد لہ دے گا ،،