سورة الانعام - آیت 124

وَإِذَا جَاءَتْهُمْ آيَةٌ قَالُوا لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّهِ ۘ اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ ۗ سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُوا صَغَارٌ عِندَ اللَّهِ وَعَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُوا يَمْكُرُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور جب ان (اہل مکہ) کے پاس (قرآن کی) کوئی آیت آتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ : ہم اس وقت تک ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ اس جیسی چیز خود ہمیں نہ دے دی جائے جیسی اللہ کے پیغمبروں کو دی گئی تھی۔ (٥٦) (حالانکہ) اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی پیغمبری کس کو سپرد کرے۔ جن لوگوں نے (اس قسم کی) مجرمانہ باتیں کی ہیں ان کو اپنی مکاریوں کے بدلے میں اللہ کے پاس جاکر ذلت اور سخت عذاب کا سامنا ہوگا۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(121) ولید بن مغیرہ کے بارے میں مروی ہے اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ اگر نبوت سچی چیز ہوتی تو اس کا حقدار میں ہوتا، اس لیے کہ میں عمر میں بڑا اور زیادہ مالدار ہوں اور ابو جہل کے بارے میں مروی ہے، اس نے کہا کہ اللہ کی قسم ہم اس کو نہ مانیں گے اور نہ اس کی اتباع کریں۔ الایہ کہ ہم پر بھی وحی نازل ہوجیسے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے ہی لوگوں کو ترید کرتے ہوئے فرمایا کہ نور نبوت سے اللہ تعالیٰ ہر کسی کو سرفراز نہیں کرتا، اللہ جانتا ہے کہ اس کا اہل کون ہے، اور اس امانت کی حفاظت کون کرسکتا ہے، مسند احمد اور صحیح مسلم میں واثلہ بن الا سقع (رض) سے مروی ہے کہ رسو اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، اللہ نے آپ کو پہلے اولاد ابراہیم سے چنا پھر بنی اسرائیل سے، پھر کنانہ سے، پھر قریش سے، اور پھر ہاشم سے چنا، مسند احمد کی ایک دوسری حدیث ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمام مخلوقات، تما قبائل اور تمام خاندان سے چنا اور پھر نبی بنایا۔ (122) چونکہ مکرو فریب دہی اس قسم کی خفیہ سازش ہوتی ہے اسی لیے اللہ کے بندوں کو بذریعہ سازش اس کی بندگی سے روکنے ت والوں کو قیامت کے دن بڑے عذاب اور سخت سزا کی خبر دی گئی ہے۔ صحیح بخاری کو روایت ہے کہ قیامت کے دن ہر دھوکہ دینے والے کی پیٹھ پر ایک جھنڈا گاڑدیا جائے گا، اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی دھوکہ دہی کا جھنڈا ہے۔