سورة الانعام - آیت 107

وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا أَشْرَكُوا ۗ وَمَا جَعَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا ۖ وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِوَكِيلٍ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اگر اللہ چاہتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے (٤٤) ہم نے نہ تمہیں ان کی حفاظت پر مقرر کیا ہے اور نہ تم ان کاموں کے ذمہ دار ہو۔ (٤٥)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(103) مشرک و کافر کو گمراہ کرنے کی حکمت اللہ ہی جانتا ہے، اگر وہ چاہتا تو تمام بنی نوع انسان کے راہ ہدایت پر کٹھا کردیتا، لیکن وہ انی مشیت اور حکمت کے تقاضے کے مطابق جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے، اللہ سے اس کے افعال کے بارے میں نہیں پو چھا جائے گا، البتہ بندوں سے ان کے اعمال کا حساب لیا جائے گا، اور نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری نہیں تھی کہ وہ انسانوں کے اعمال واقوال کا ریکارڈ رکھتے، اور نہ ان کی روزی اور دیگر امور کے ذمہ دار تھے، ان کا کام تو اللہ کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچادینا تھا، سو انہوں نے بدرجہ اتم انجام دیا۔