سورة الانعام - آیت 101

بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُن لَّهُ صَاحِبَةٌ ۖ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

وہ تو آسمانوں اور زمین کا موجود ہے۔ اس کا کوئی بیٹا کہاں ہوسکتا ہے، جبکہ اس کی کوئی بیوی نہیں؟ اسی نے ہر چیز پیدا کی ہے اور وہ ہر ہر چیز کا پورا پورا علم رکھتا ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(97) جن لوگوں اللہ کے لیے بیتا یا بیٹی ثابت کرنے کی جرات کی، ان کی تر دید کی جا رہی ہے، کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو بغیر مادہ کے پیدا کیا ہے، وہ فاعل اور مؤثر مطلق ہے، وہ کسی چیز کا اثر قبول نہیں کرتا ہے، اور باپ بیٹے کا عنصر ہوتا ہے اور منفعل ہو کر اثر قبول کرتا ہے، تب بیٹے کا مادہ اس سے منتقل ہوتا ہے، اس لیے اللہ کا کوئی بیٹا نہیں ہوسکتا، اور اس لیے بھی اس کا کوئی بیٹا نہیں ہوسکتا کہ اس کی کوئی بیوی نہیں، اور بغیر دوہم جنسوں کے ملاپ کے لڑکا نہیں ہوتا۔ اور اللہ کا کوئی ہم جنس نہیں، اور اس لیے بھی اس کا کوئی بیٹا نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے، اور انہی میں سے وہ بھی ہے جسے لوگ اللہ کا بیٹا بتاتے ہیں۔، اور مخلوق خالق کا بیٹا نہیں ہو سکتا، اور اس لیے بھی اس کو کوئی بیٹا نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ کا علم تمام معلومات کو محیط ہے، کوئی چیز اس سے مخفی نہیں، اگر اس کا بیٹا ہوتا تو وہ بھی اس کی صفات کے ساتھ متصف ہوتا وہ بھی ہر چیز کا علم رکھتا، جبکہ یہ صفت غیر اللہ سے بالا جماع منفی ہے