سورة الانعام - آیت 95

إِنَّ اللَّهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَىٰ ۖ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ ۚ ذَٰلِكُمُ اللَّهُ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

بیشک اللہ ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا ہے۔ وہ جاندار چیزوں کو بے جان چیزوں سے نکال لاتا ہے، اور وہی بے جان چیزوں کو جاندار چیزوں سے نکالنے والا ہے۔ (٣٥) لوگو ! وہ ہے اللہ پھر کوئی تمہیں بہکا کر کس اوندھی طرف لئے جارہا ہے ؟ (٣٦)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(91) باری تعالیٰ کی توحید کا بیان ہوجانے کے بعد اس کی قدرت تخلیق اور اس کی کچھ مثالیں بیان کی جا رہی ہیں جو اس کے علم وحکمت اور کمال کدرت پر دلالت کرتی ہیں اس لیے کہ اصلی مقصود اللہ تعالیٰ کو اس کی تمام صفات و افعال کے ذریعہ پہچاننا اور یہ جاننا ہے کہ تمام اشیاء کا خالق صرف اسی کی ذات ہے، اور اس علم و ایمان کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ عبادت کی تمام قسموں کا مستحق بھی صرف اسی کو ماناجائے، اور ان اصنام اور باطل معبودوں کو قدموں کے نیچے روندا جائے جنہیں مشر کین اللہ کے ساتھ شریک بناتے ہیں اور انہیں اپنا ملجا وماعی سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ زمین کے اندر دانے کو پھاڑ کر ہرا بھرا پودا، اور کھجور کی گٹھلی کو پھاڑ کر لہلہاتا درخت نکالتا ہے، اس کی قدرت کی کاریگری دیکھئے کہ مردہ سے زندہ کو نکالتا ہے، جیسے نطفہ سے حیوان، اور خشک دانے سے سر سبز و شاداب پودے نکالتا ہے، اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے، یعنی حیوان نطفہ اور پودا سے دانہ نکالتا ہے، یہ سب کچھ اللہ کرتا ہے جو عظیم الشان قدرتوں کا مالک اور عبادت کی تمام قسموں کا تنہا مستحق ہے، پھر کہ کیسی عجیب بات ہے کہ انسان اس ذات باری تعالیٰ کے بجائے دوسروں کی عبادت کرنے لگتات ہے۔