سورة الانعام - آیت 90

أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ ۗ قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا ۖ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَىٰ لِلْعَالَمِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

یہ لوگ (جن کا ذکر اوپر ہوا) وہ تھے جن کو اللہ نے (مخالفین کے رویے پر صبر کرنے کی) ہدایت کی تھی، لہذا (اے پیغمبر) تم بھی انہی کے راستے پر چلو۔ (مخالفین سے) کہہ دو کہ میں تم سے اس (دعوت) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ یہ تو دنیا جہان کے سب لوگوں کے لیے ایک نصیحت ہے، اور بس۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(84) اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کو آسمانی کتابیں دیں، اور علم نبوت کی نعمت سے نوزا، مفسر ابو السعود نے لکھا ہے کہ یہاں آسمانی کتابیں دینے سے مراد ان میں حقائق کی تفہیم اور تمام بڑے امور کا احاطہ ہے اس لیے ان میں سے بعض پر کوئی متعین کتاب نازل نہیں ہوئی، تھی اس کے بعد اللہ نے فرمایا اگر کفار قریش رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کا انکار کرتے ہیں تو وہ گویا گذشتہ انبیاء اور آسمانی کتابوں کا انکار کرتے ہیں، اور ان کے اس انکار کی اللہ کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔ کیونکہ اس نے تو ان دونوں پر ایمان لانے کے لیے صحابہ کرام اور مومنین کی جماعات کو پیدا کردیا ہے۔ جو ان پر ایمان لے آئے ہیں۔ اور ان پر دین اسلام پر جان نثار کرنے کے لیے ہمہ دم تیار رہتے ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرکے کہا جارہا ہے کہ آپ انہی مذکورہ بالا انیاء کی اقتدا کریں، کیونکہ اللہ نے انہیں ایمان باللہ توحید خالص، اخلاق حمیدہ اور اللہ کی راضی کرنے والے اعمال کی تو فیق دی تھی۔ شوکانی لکھتے ہیں : یہ آیت سلیل ہے کہ ابتدائے اسلام میں جن معاملات کے بارے میں قرآن میں کوئی نص نازل نہیں ہو اتھا، ان کے بارے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ گذشتہ انبیاء کی پیروی کریں، اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا گیا کہ آپ کفار قریش سے کہہ دیجئے کہ میں تم لوگوں سے قرآن کریم کی تعلیم پر کوئی اجرت نہیں مانگتا ہوں۔ کیونکہ یہ تو رہتی دنیا تک تمام جہان کے لیے اللہ کی طرف سے نصیحت کا خزانہ ہے۔ علمائے تفسیر نے لکھا ہے : یہ آیت دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہوسلم تمام جنوں اور انسانوں کے لیے رسول بناکر بھیجے گئے تھے۔ اور فقہا سے استدلال کیا ہے کہ تعلیم اور تبلیغ احکام پر اجرت لینی جا ئز ہے، اور صحیح بخاری میں عبداللہ بن عباس (رض) سے اس آدمی کا قصہ مروی ہے جسے سانپ نے ڈس لیا تھا، اور جس پر ایک صحابی نے ت سورۃ فاتحہ پڑھ کر پھونکا تو اس کا زہر اتر گیا تھا، اس وقعہ میں یہ بھی مروی ہے کہ جب انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بتایا کہ اس آدمی کے قبیلہ والوں نے صحابہ کرام کو بکریاں دی ہیں، تو آپ نے فرمایا : سب سے اچھا کام جس پر تم اجرت لو اللہ کی کتاب ہے تم نے اچھا کیا، حصہ لگاؤ اور میرا حصہ بھی رکھو، امام شوکانی لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کا یہ قول وعام ہے جو تعلیم قرآن، تلاوت قرآن، حسب طلب قران پڑھ کردم کرنے اور اس ہدیہ کو شامل ہے جو قاری قرآن کو اس لیے دیا جاتا ہے کہ وہ قاری ہے۔