سورة الانعام - آیت 68

وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ۚ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَىٰ مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کو برا بھلا کہنے میں لگے ہوئے ہیں، تو ان سے اس وقت تک کے لیے الگ ہوجاؤ جب تک وہ کسی اور بات میں مشغول نہ ہوجائیں۔ اور اگر کبھی شیطان تمہیں یہ بات بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(62) ابتدائے اسلام میں مشرکین مکہ صحابہ کرام کو قرآن پڑھتے دیکھتے تو مذاق اڑاتے، اور باتیں بناتے، انہی حالات کے مدنظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کو منع کیا کہ کفار جب قرآن کا مذاق اڑارہے ہوں تو ایسی مجلسوں سے اٹھ جائیں، یہاں تک کہ وہ لوگ کوئی اور بات کرنے لگیں۔ اور جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو وہاں کے بھی کفار اور منافقین کا ایسا ہی رویہ تھا کہ وہ لوگ قرآن کریم میں آیا ہے، اور اللہ قرآن کریم میں تمہارے لیے بتا چکا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیتوں کا انکار کیا جارہا ہے، اور اس کا مذاق اڑیا جارہا ہے، اور ان کے ساتھ نہ بیھٹو، یہاں تک کہ اس کے علاوہ کوئی اور بات کرنے لگیں، اور نہ تم انہی کے جیسے ہوجاؤ گے، مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ حکم عام ہے، اور امت مسلمہ کے ہر فر دا کا فرض ہے کہ جہاں کہیں بھی اسلام کا یا قرآن وسنت وغیرہ کا مذاق اڑایا جا رہا ہو، یا بد عت و خرافات کی طرف دعوت دی جا رہے ہو اس مجلس کا با ئیکاٹ کرے، ورنہ اس پر بھی حکم لگے گا جس کا بیان ابھی سورۃ نساء کے آخر میں گذرا کہ تم بھی ان کے مانند ہوجاؤ گے