سورة الانعام - آیت 47

قُلْ أَرَأَيْتَكُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ بَغْتَةً أَوْ جَهْرَةً هَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الظَّالِمُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

کہو : ذرا یہ بتاؤ کہ اگر اللہ کا عذاب تمہارے پاس اچانک آئے یا اعلان کرکے، دونوں صورتوں میں کیا ظالموں کے سوا کسی اور کو ہلاک کیا جائے گا؟ (١٦)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(47)"بغتتہ" سے رمراد وہ عذاب ہے جو اچانک اور کسی سابق اطلاع کے بغیر آئے اور "جھرہ"سے مراد وہ جو کسی سابقہ اشارہ اور اطلاع کے بعد آئے، یا ان دونوں سے مراد رات اور دن ہے اس لیے کہ کافر قوموں کو ہلاک کرنے والا عذاب یا تو رات کو اچانک یا پھر دن میں کھلے عام آتا ہے، اور القوم الظالمون" میں عذاب کے سبب کی طرف اشارہ ہے کہ ان کی ہلاکت کا سبب ان کا ظلم وطغیان اور اللہ سے سرکشی ہے۔