سورة الانعام - آیت 38

وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم ۚ مَّا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِن شَيْءٍ ۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور زمین میں جتنے جانور چلتے ہیں، اور جتنے پرندے اپنے پروں سے اڑتے ہیں، وہ سب مخلوقات کی تم جیسی ہی اصناف ہیں۔ ہم نے کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ پھر ان سب کو جمع کر کے ان کے پروردگار کی طرف لے جایا جائے گا۔ (١٢)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(41) اس آیت سے مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو محیط ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے اور اس کی نگرانی۔ حفاظت کی نگرانی سے متعلق اس کی حکمت اس سے مانع ہے۔، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمام چوپائے جو زمین پر چلتے ہیں۔ اروتمام چڑیاں جو اپنے دو پروں کے ذریعہ اڑتی ہیں سب اللہ کی مخلوقات کی الگ الگ قسمیں ہیں ان تمام کے احوال سے اللہ تعالیٰ واقف ہے وہ کسی بھی چیز سے غافل نہیں ہے سب کی نگرانی کرتا اور سب کو روزی اور نگرانی سے بھی غافل نہیں ہے، اور قیامت کے دن سبھی اللہ کے حضور جمع ہوں گے، اور سب کے ساتھ انصاف ہوگا، یہاں تک کہ صحیح احادیث کے مطابق بے سینگ کی بکری کا حق سینگ والی بکری سے لیا جائے گا۔