سورة المآئدہ - آیت 116

وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَٰهَيْنِ مِن دُونِ اللَّهِ ۖ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ ۚ إِن كُنتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ ۚ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ ۚ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور (اس وقت کا بھی ذکر سنو) جب اللہ کہے گا کہ : اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے علاوہ دو معبود بناؤ؟ (٧٩) وہ کہیں گے : ہم تو آپ کی ذات کو (شرک سے) پاک سمجھتے ہیں۔ میری مجال نہیں تھی کہ میں ایسی بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے ایسا کہا ہوتا تو آپ کو یقینا معلوم ہوجاتا۔ آپ وہ باتیں جانتے ہیں جو میرے دل میں پوشیدہ ہیِ اور میں اور آپ کی پوشیدہ باتوں کو نہیں جانتا۔ یقینا آپ کو تمام چھپی ہوئی باتوں کا پورا پورا علم ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(141) یہاں بھی خطاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے عیسیٰ (علیہ السلام) کو ہے، اور یہ خطاب قیامت کے دن ان نصاری کے سامنے ہوگا جنہوں نے عیسیٰ اور ان کی ماں مریم کو اللہ کے بجائے معبود بنا لیا تھا، اور اس سے مقصود ان کی تو بیخ وملامت ہوگی، اور یہ اس وجہ سے ہوگا کہ دیگر قوموں کا جرم اس حدتک محدود تھا کہ انہوں نے انبیاء پر طعن وتشنیع کیا، لیکن ملحدین نصاری نے تو اللہ کے جالال اور اس کی کبریائی پر کلام کیا اور اسے ایسی صفات کے ساتھ متصف کیا جو کسی طرح اس کے لائق نہ تھی۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا اور ان کی ماں کو اس کی بیوی ٹھرایا، اسی لئے روز قیامت تمام انبیاء ورسل کے سامنے اللہ تمام حاضرین محشر کے سامنے سوال کرے گا تاکہ وہ خود اپنی زبان سے اپنی عبودیت اور اس بات کا اعلان کریں کہ انہوں نے اپنی امت کو اللہ کی بندگی کا حکم دیا تھا۔ تاکہ ان کی عبادت کرنے والوں کی تکذیب ہو اور ان کے خلاف حجت قائم ہوجائے۔ اور اللہ نے یہ اسلوب بیان اس لیے اختیار کیا ہے تاکہ رسول اللہ صلیا للہ علیہ وسلم کے زمانے کے نصاری کو تنبیہ کی جائے اور انہیں بتایا جائے کہ ان کا عقیدہ کتنا فاسد اور ان کا مذہب کس قدر بے بنیاد ہے (142) عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے قول یا عدم قول کے علم کی نسبت اللہ کی طرف کردی، اور اللہ خوب جانتا ہے کہ انہوں نے یہ بات نہیں کی تھی اس طرح ثابت ہوگیا کہ یہ عیسیٰ علیہ اسلام کا قول نہی ہے۔ اس کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے گذشتہ قول کی علت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اللہ ! میرے دل میں جو کچھ چھپا ہوا ہے تو اسے جانتا ہے، اس لیے اگر میں کوئی بات ایسی کہی ہوگی تو تجھے یقیننا اور بدرجہ اولی اس کی خبر ہوگی۔ اور تیرے علم کے خزانے میں کیا کچھ چھپا ہوا ہے اسے میں نہیں جانتا، توہی غیب کی تمام باتوں کو جاننے والا ہے۔ اس کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) سے مخاطب ہو کر کہیں گے کہ میں نے ان سے وہی بات کہی تھی جس کا تبلیغ کا تو نے مجھے حکم دیا تھا۔ کہ اے لوگو ! تم سب اللہ کی بندگی کرو جو میرا اور تم سب کا رب ہے۔ آیت کے اس حصہ میں میں عیسیٰ علیہ السلام