سورة المآئدہ - آیت 63

لَوْلَا يَنْهَاهُمُ الرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ عَن قَوْلِهِمُ الْإِثْمَ وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَصْنَعُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

ان کے مشائخ اور علماء ان کو گناہ کی باتیں کہنے اور حرام کھانے سے آخرت کیوں منع نہیں کرتے؟ حقیقت یہ ہے کہ ان کا یہ طرز عمل نہایت برا ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

86۔ ابن جریر نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ قرآن کریم میں ڈانٹ اور پھٹکار سے متعلق اس سے زیادہ شدید کوئی آیت نہیں ہے، ابن ابی حاتم نے یحیی بن معمر سے روایت کی ہے کہ علی بن ابی طالب (رض) نے خطبہ میں کہا کہ اے لوگو ! تم سے پہلے کے لوگ ارتکاب معاصی کو وجہ سے ہلاک ہوگئے، جب وہ گناہوں میں آگے بڑھتے گئے، اور ان کے علماء و ارباب حل و عقد نے انہیں نہیں روکا، تو وہ اللہ کی گرفت میں آگئے، اس لیے تم لوگ بھلائی کا حکم دو اور برائی سے روکو قبل اس کے کہ تمہارا انجام وہی ہو جو ان کا ہوا