سورة البقرة - آیت 65

وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِينَ اعْتَدَوْا مِنكُمْ فِي السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور یقیناً تم ان لوگوں کے حال سے بے خبر نہیں ہو جو تم ہی میں سے تھے اور جنہوں نے "سبت" (یعنی تعطیل اور عبادت کے مقدس دن) کے معاملہ میں راست بازی کی حدیں توڑ ڈالی تھیں (یعنی حکم شریعت سے بچنے کے لیے حیلوں اور مکاریوں سے کام لیا تھا) ہم نے کہا ذلیل و خوار بندروں کی طرح ہوجاؤ (انسانوں کے پاس سے ہمیشہ دھتکارے نکالے جاؤ گے)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

١١٦: یہاں یہود کی ایک بستی والوں کی بدعہدی اور حیلہ سازی کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہفت کے دن مچھلی کا شکار حرام کردیا تھا۔ اس دن ان کی کی آزمائش کے لیے مچھلیاں زیادہ آتی تھیں۔ انہوں نے حیلہ سے کام لیا، ہفتہ کے دن مچھلیاں آکر ان کے جالوں اور تالابوں میں پھنس جاتی تھیں، بستی والے ہفتہ کے دن گذر جانے کے بعد ان کا شکار کرلیتے۔ اللہ نے انہیں حیلہ سازی اور بدعہدی کی یہ سزا دی کہ ان کی صورتوں کو بندر کی صورت میں بدل دیا۔ یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ سورۃ اعراف آیت ١٦٣ میں مذکور ہے۔