سورة النسآء - آیت 148

لَّا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَن ظُلِمَ ۚ وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

خدا کو پسند نہیں کہ تم (کسی کی) برائی پکارتے پھرو۔ ہاں یہ کہ کسی پر ظلم ہوا ہو (اور وہ ظالم کے ظلم کا اعلان کرے) اور (یاد رکھو) خدا سننے والا جاننے والا ہے (اس سے کسی کی کوئی بات پوشیدہ نہیں

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

140۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ آدمی اپنی زبان سے بری باتیں لوگوں کے سامنے بیان کرتا پھرے جیسے گالی گلوچ، غیبت، چغل خوری، خواہ مخواہ کسی کو بدعا دینا، بد زبانی اور فسق و فجور کے کلمات زبان پر لاتے رہنا، اس سے مستثنی صرف وہ شخص ہے جس پر ظلم ہوا ہو، تو اسے حق پہنچتا ہے کہ حاکم کے سامنے اپنی مظلومیت بیان کرے یا ظالم کے لیے بد دعا کرے، ابن عباس (رض) سے یہی تفسیر منقول ہے۔ علماء نے ظلم کی بہت سی صورتیں بتائی ہیں، آیت میں وہ تمام صورتیں مراد ہیں۔ اس معنی کی مزید وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے جسے ابو داود اور حافظ ابو بکر بزار نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے، کہ ایک آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا کہ میرا ایک پڑوسی مجھے ایذا پہنچاتا ہے، آپ نے اس سے کہا کہ تم اپنا سامان نکال کر راستہ پر بیٹھ جاؤ، اس آدمی نے ایسا ہی کیا، جب کوئی وہاں سے گذرتا ہے تو اس سے پوچھتا کہ کیا بات ہے؟ وہ کہتا ہے کہ میرا پڑوسی مجھے ایذا پہنچاتا ہے، تو ہر آدمی کہتا کہ اے اللہ ! تو اس پر لعنت بھیج دے، اے اللہ ! تو اسے رسوا کر، آخر کار وہ آڈمی اور کہا کہ اپنے گھر میں چلے جاؤ، اللہ کی قسم اب میں تمہیں کبھی بھی نہیں ستاؤں گا مجاہد کہتے ہیں کہ یہ آیت ایک ایسے آڈمی کے بارے میں نازل ہوئی تھی جس کے پاس کوئی مہمان آیا تو اس نے اس کا خیال نہیں کیا، اس لیے وہ کسی دوسرے کے پاس چلا گیا اور اس کی بری خصلت لوگوں سے بیان کرنے لگا، اس کے لیے ایسا کرنا جائز قرار دیا گیا۔ ایک دوسری روایت میں مزید صراحت ہے کہ یہ آیت ایسے آدمی کے بارے میں ہے، جس کے پاس کوئی مہمان آئے اور وہ اس کا خیال نہ کرے، تو وہ وہاں سے نکل کر لوگوں سے کہے کہ فلاں آدمی نے میرا خیال نہیں کیا اور میرے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کیا۔ حضرت علی (رض) سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ کلمہ کفر یا اور کوئی بری بات زبان پر لانے کو اللہ پسند نہیں کرتا، صرف مظلوم و مجبور کے لیے جائز ہے، اور اس کی مثال ابتدائے اسلام میں مکہ کے وہ مسلمان ہیں جن پر کفار قریش ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھاتے تھے، اور انہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دینے پر مجبور کرتے تھے چنانچہ عمار (رض) نے ایسا ہی کیا تو انہیں کفار نے چھور دیا، اور ان کے ساتھی کو سولی پر چڑھادیا، عمار (رض) اور ان کے ساتھی کے بارے میں ہی سورۃ نحل کی آیت 106 نازل ہوئی تھی، جس میں ان کے ایمان کی شہادت دی گئی ہے، معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص صادق الایمان ہے اور اپنی جان بچانے کے لیے زبان سے کوئی کلمہ کفر ادا کرتا ہے تو کوئی حرج نہیں، جیسا کہ عمار (رض) نے کیا تھا، اور قرآن نے ان کے ایمان کی گواہی دی۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ الا من ظلم کے عموم میں مذکورہ بالا تمام صورتیں داخل ہیں