سورة النسآء - آیت 116

إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اللہ یہ بات بخشنے والا نہیں کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے۔ اس کے سوا جتنے گناہ ہیں وہ جسے چاہے بخش دے اور جس کسی نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا تو وہ بھٹک کر سیدھے راستے سے بہت دور جا پڑا۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

114۔ اس آیت کریمہ کی تفسیر آیت 48 میں گذر چکی ہے، تکرار سے مقصود یا تو شرک کی خطرناکیوں کی مزید تاکید ہے، یا طعمہ کے قصہ کی تکمیل، جو مرتد ہو کر مشرکوں سے جا ملا اور حالت شرک میں ہی مر گیا۔ ترمذی نے علی بن ابی طالب (رض) کا قول نقل کیا ہے کہ پورے قرآن میں اس آیت سے زیادہ میرے نزدیک اور کوئی آیت محبوب نہیں ہے اور وجہ بظاہر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں امید دلائی ہے کہ وہ شرک کے علاوہ تمام گناہوں کو جس کے لیے چاہے گا معاف کردے گا