سورة النسآء - آیت 108

يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللَّهِ وَهُوَ مَعَهُمْ إِذْ يُبَيِّتُونَ مَا لَا يَرْضَىٰ مِنَ الْقَوْلِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(اس طرح کے لوگ) انسانوں سے (اپنی خیانت) چھپاتے ہیں، لیکن خدا سے نہیں چھپاتے، حالانکہ یہ وہ راتوں کو مجلس بٹھا کر ایسی ایسی باتوں کا مشورہ کرتے ہیں جو خدا کو پسند نہیں تو اس وقت وہ ان کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ وہ جو کچھ کرتے ہیں اس کے احاطہ حکم سے باہر نہیں

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰہِ میں منافقین کے بد باطن ہونے کی عکاسی کی گئی ہے کہ یہ عار سے بچنے کے لیے لوگوں سے اپنے برے اعمال چھپانا چاہتے ہیں، اور اللہ کو دکھا کر کرتے رہتے ہیں، اللہ سے انہیں حیا نہیں آتی جو سارے بھیدوں کا جاننے والا ہے۔ اسی لیے اللہ نے اس کے بعد فرمایا کہ یہ لوگ جب سازش کرتے ہوتے ہیں اس وقت اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ اے وہ لوگو جو دنیا میں ان خیانت کرنے والوں کا ساتھ دے رہے ہو، قیامت کے دن اللہ کے مقابلہ میں کون ان کی طرف سے دفاع کرے گا۔