سورة النسآء - آیت 103

فَإِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِكُمْ ۚ فَإِذَا اطْمَأْنَنتُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ ۚ إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

پھر جب تم نماز (خوف) پوری کرچکو، تو چاہیے کہ کھڑے، بیٹھے، لیٹے، ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے رہو (کہ اس کی یاد صرف نماز کی حالت ہی پر موقوف نہیں۔ ہر حالت میں تمہارے اندر بسی ہونی چاہیے) پھر جب ایسا ہو کہ تم (دشمن کی طرف سے) مطمئن ہوجاؤ۔ تو (معمول کے مطابق) نماز قائم رکھو۔ بلاشبہ نماز مسلمانوں پر وقت کی قید کے ساتھ فرض کردی گئی ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

108۔ اس آیت میں مومنوں کو ہر حال میں اللہ کو یاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور خاص طور سے جب وہ حالت جنگ میں ہوں، اس لیے کہ روحانی قوت مادی قوت پر بہرحال غالب ہو کر رہتی ہے، اس لیے مجاہدین ااسلام صرف نماز میں ہی ذکر الٰہی پر اکتفا نہ کریں بلکہ ہر حال میں اللہ کی یاد سے اپنی زبان کو تر رکھیں اس کے بعد اللہ نے کہا کہ جب امن ہوجائے تو مسلمان پوری نمازیں پڑھیں