سورة النسآء - آیت 85

مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَّهُ كِفْلٌ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ اللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

جو انسان دوسرے انسان کے ساتھ نیکی کے کام میں ملتا اور مددگار ہوتا ہے تو اسے اس کام کے (اجر و نتائج) میں حصہ ملے گا اور جو کوئی برائی میں دوسرے کے ساتھ ملتا اور مددگار ہوتا ہے تو اس کے لیے اس برائی میں حصہ ہوگا اور اللہ ہر چیز کا محافظ اور نگران ہے (وہ ہر حالت اور ہر عمل کے مطابق بدلہ دیتا ہے)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

92۔ مسلمانوں کا کافروں کے خلاف جہاد کی ترغیب دلانا، اللہ کے نزدیک مسلمانوں کے حق میں خیر خواہی اور شفاعت حسنہ ہے۔ اسی مناسبت سے یہاں اچھی اور بری شفاعت کا بیان آیا ہے۔ اچھی شفاعت کی تعریف کی گئی ہے اور اللہ کے وعدہ کا ذکر ہے کہ شفاعت کرنے والے کو بھی اللہ اچھا بدلہ دے گا، اور بری شفاعت یعنی حاکم وقت کے پاس جا کر لوگوں کی شکایتیں کرنے والے کو اس بدکرداری کا برا بدلہ ضرور ملے گا۔ شفاعت حسنہ کی فضیلت کے بیان میں کوئی صحیح حدیثیں وارد ہوئی ہیں صحیحین میں ابو موسیٰ اشعری (رض) سے مراوی ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اشفعوا توجروا کہ شفاعت کرو، اس کا تمہیں اجر ملے گا مجاہد، حسن، کلبی اور ابن زید نے کہا ہے کہ یہ آیت لوگوں کی آپس کی سفارشات کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جائز سفارش شفاعت حسنہ ہوتی ہے اور ناجائز سفارش شفاعت سیئہ۔ سفارشات کے بدلے میں ہدیہ قبول کرنے کی بڑی مذمت آئی ہے۔ ابو داود کی حدیث ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کے لیے سفارش کی، جس کے بدلہ میں اس نے اسے ہدایہ دیا اور اس نے قبول کرلیا، تو وہ کبیرہ گناہوں کے دروازوں میں سے ایک بڑے دروازے میں داخل ہوگیا۔