سورة النسآء - آیت 83

وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ ۖ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَىٰ أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ ۗ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ إِلَّا قَلِيلًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور جب ان لوگوں کے پاس امن کی یا خوف کی کوئی خبر پہنچ جاتی ہے تو یہ (فورا) اسے لوگوں میں پھیلانے لگتے ہیں اگر یہ اسے (لوگوں میں پھیلانے کی جگہ) اللہ کے رسول کے سامنے اور ان لوگوں کے سامنے جو ان میں حکم و اختیار والے ہیں پیش کرتے تو جو (علم و نظر والے) بات کی تہ تک پہنچنے والے ہیں، وہ اس کی حقیقت معلوم کرلیتے (اور عوام میں تشویش نہ پھیلتی) اور (دیکھو) اگر اللہ کا تم پر فضل نہ ہوتا، اور اس کی رحمت نہ ہوتی، تو (تمہاری کمزوریوں کا یہ حال تھا کہ) معدودے چند آدمیوں کے سوا سب کے سب شیطان کے پیچھے لگ لیے ہوتے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

90۔ اس میں بھی منافقین ہی کا ذکر شر ہے کہ انہیں جب جہادی دستوں کے بارے میں غلبہ یا شکست کی کوئی خبر ملتی ہے، تو لوگوں میں اسے بغیر تحقیق کیے فوراً پھیلانا شروع کردیتے ہیں جس سے مسلم سوسائٹی کو کئی طرح کے نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں، اس لیے کہ عام طور پر بغیر تحقیق شدہ خبروں میں بہت سی جھوٹ باتیں ملی ہوتی ہیں، اگر وہ خبریں مسلمانوں کے غلبہ کے بارے میں ہوتیں اور مبالغہ سے کام لیا گیا ہوتا، اور سچی نہ نکلتیں تو بہتوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت میں شبہ ہونے لگتا تھا، اس لیے کہ منافقین ان خبروں کی نسبت آپ ہی کی طرف کر کے بیان کرتے تھے اور اگر وہ خبریں مسلمانوں کی شکست کے بارے میں ہوتی تھیں، تو بہت سے کمزور ایمان کے مسلمان فتنہ میں پڑجاتے تھے، ان خبروں کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا تھا کہ مسلمانوں کی جنگ تیاریوں کی خبر بڑی تیزی کے ساتھ کافروں کو ہوجاتی تھی، اور اگر خبر خوف و ہراس والی ہوتی تو کمزور مسلمان خائف ہوجاتے تھے، انہی خرابیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے خبروں کی تشہیر سے منع فرمایا اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ ان خبروں کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اصحاب بصیرت صحابہ کرام کی رائے کا انتظار کرلیتے تو انہیں حقیقت حال معلوم ہوجاتی، اور یہ بھی معلوم ہوجاتا کہ کس خبر کو مشہور کرنا چاہئے، اور کسے چھپانا چاہئے، مسلمانوں کی ذہنی تربیت ہی کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ جو کچھ سنے اسے بیان کرے۔ (مسلم) اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ اگر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت اور قرآن کے نزول کے ذریعہ اللہ کا فضل و کرم نہ ہوتا، تو اے مسلمانو ! سوائے چند دیدہ ور صحابہ کرام کے تم سبھی شیطان کے پیروکار بن جاتے، اور ان جھوٹی خبروں کی تصدیق کرنے لگتے