سورة النسآء - آیت 78

أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِككُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ ۗ وَإِن تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا هَٰذِهِ مِنْ عِندِ اللَّهِ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُوا هَٰذِهِ مِنْ عِندِكَ ۚ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللَّهِ ۖ فَمَالِ هَٰؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

تم جہاں بھی ہوگے (ایک نہ ایک دن) موت تمہیں جاپکڑے گی، چاہے تم مضبوط قلعوں میں کیوں نہ رہ رہے ہو۔ اور اگر ان (منافقوں) کو کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، اور اگر ان کو کوئی برا واقعہ پیش آجاتا ہے تو (اے پیغمبر) وہ (تم سے) کہتے ہیں کہ یہ برا واقعہ آپ کی وجہ سے ہوا ہے۔ کہہ دو کہ ہر واقعہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ کوئی بات سمجھنے کے نزدیک تک نہیں آتے؟

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

85۔ اس آیت کریمہ میں اللہ نے فرمایا ہے کہ وہ موت جس کے ڈر سے تم جہاد سے کترا رہے ہو، جب اس کا وقت آجائے گا تو وہ کہیں بھی تمہیں آ دبوچے گی، اس کے بعد اللہ نے منافقین کی ایک صفت بیان کی کہ جب ان کے مال میں برکت ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور ہمیں اچھا جان کر ہی یہ سب کچھ دیا ہے، اور اگر قحط سالی اور مال و اولاد میں کمی ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ اے محمد ! یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے، تم ہی جب سے مدینہ میں آئے ہو یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے، اور اس بات میں تو یہود بھی منافقین کے ساتھ شریک تھے، کہتے تھے کہ جب سے یہ آدمی (رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کے اصحاب یہاں آئے ہیں، ہمارے اناجوں اور پھلوں میں کمی آگئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ ان کے زعم باطل کی تردید کرتے ہوئے آپ کہئے کہ اے منافقو ! نعمت یا مصیبت سب کا تعلق اللہ سے ہے، لیکن بات در اصل یہ ہے کہ تم جہالت و عناد میں مبتلا ہو تمہیں کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔