سورة المرسلات - آیت 25

أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٧) ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت انسان کو اپنی بعض نعمتیں یاد دلائی ہیں جن کا تقاضا تھا کہ وہ اپنے رب کا شاکر و ذاکر بندہ بنتا اللہ نے فرمایا : لوگو ! کیا ہم نے زمین کو تمہارے زندوں اور مردوں کے لئے جائے سکونت نہیں بنایا ہے، تمہارے زندے زمین پر بنے منازل و مساکن میں پناہ لیتے ہیں اور تمہارے مردہ افراد کو زمین اپنے اندر جگہ دیتی ہے، انہیں اپنے آپ سے چمٹا لیتی ہے، جس طرح محلات و قصور اللہ کی نعمت ہیں، اسی طرح قبریں بھی اس کی نعمت ہیں، جن میں مردے دفن کردیئے جاتے ہیں، تاکہ جانور اور دوسری چیزیں ان کی اہانت نہ کریں، دفن میت کی اسی اہمیت کے پیش نظر حافظ ابن عبدالبر نے امام مالک کے شاگرد ابن القاسم کا یہ قول نقل کیا ہے کہ کفن چور کا ہاتھ کاٹ لینا شرع ہے، انہوں نے اسی آیت سے استدلال کیا ہے اور کہا ہے کہ قبر کی حیثیت مردہ کے لئے ویسی ہی ہے جیسی زندگی کے لئے گھر کی۔ آیت (27) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لوگو ! کیا ہم نے زمین پر بڑے اونچے پہاڑوں کے کھونٹے نہیں گاڑ دیئے ہیں، تاکہ اس میں حرکت نہ پیدا ہو، اور تم اس پر بسہولت زندگی گذار سکو اور کیا ہم نے تمہیں میٹھا صاف پانی نہیں پلایا ہے ان تمام سوالوں کا جواب ایک ہے کہ ہاں، یقیناً یہ ساری نعمتیں اللہ کی دی ہوئی ہیں تو پھر اے کافرو ! تم کیوں اللہ کی نعمتوں کو جھٹلاتے ہو، کیوں اس کے رسول اور اس کی کاتب کی تکذیب کرتے ہو، یاد رکھو کہ قیامت کے دن ہلاکت و بربادی ہے ایسے جھٹلانے والوں کے لئے