سورة الملك - آیت 27

فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَقِيلَ هَٰذَا الَّذِي كُنتُم بِهِ تَدَّعُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

پھر جب یہ اس کو (یعنی قیامت کو) قریب سے دیکھیں گے تو (مارے ہیبت کے) ان کافروں کے چہرے بگڑجائیں گے اور ان سے کہا جائے گا یہی وہ عذاب ہے جس کے لیے تم (پیہم) تقاضا کیا کرتے تھے

تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ

(27) کفار و مشرکین دنیا میں قیامت اور بعث بعد الموت کی تکذیب کرتے ہیں، لیکن جب قیامت واقعی آجائے گی، اور وہ دوبارہ زندہ کئے جانے کے بعد میدان محشر میں جمع کردیئے جائیں گے اور جہنم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے، اس وقت ان کی آنکھیں پتھرا جائیں گی، ان کے چہرے مارے خوف و دہشت کے سیاہ ہوجائیں گے اور فرشتے ان سے بطور زجر و توبیخ کہ کہیں گے کہ یہی ہے وہ جہنم جس کی تم تکذیب کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ قیامت کی کوئی حقیقت نہیں ہے، اب تم نے اپنے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا، اور تمہارے لئے اس سے نجات کی کوئی صورت باقی نہیں رہی۔