سورة الجمعة - آیت 2

هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

وہی ہے جس نے امیوں میں سے ایک رسول انہی میں سے مبعوث کیا، جوان پر خدا کی آیات کی تلاوت کرتا ہے ان کے اخلاق کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں کتاب وحکمت کی باتیں سکھاتا ہے، حالانکہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے (٢)۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(2) ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ ” امیون“ سے مراد تمام عرب ہیں، چاہے وہ پڑھنا جانتے ہوں یا نہیں، اس لئے کہ قرآن کریم سے پہلے ان کو کوئی آسمانی کتاب نہیں دی گئی تھی اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ” ان پڑھ“ ہونا ان کے صدق نبوت کی دلیل تھی۔ اللہ تعالیٰ نے امت محدیہ کو اپنا احسان یاد دلاتے ہوئے فرمایا کہ اس نے عربوں کے لئے (جو ان پڑھ تھے) انہی جیسا ایک ان پڑھ نبی مبعوث فرمایا جو ان پڑھ ہونے کے باوجود اللہ کی آیتیں پڑھ کر انہیں سناتے تھے خان کے جسموں کو گندگیوں اور آلائشوں سے اور ان کی روحوں کو غلط عقائد اور خبیث الخاق سے پاک کرتے تھے اور انہیں قرآن و سنت کی تعلیم دیتے تھے۔ آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اہل عرب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے بڑی ہی شدید گمراہی میں مبتلا تھے، بتوں کی پوجا کرتے تھے اور اخلاق عالیہ اور آداب حسنہ سے یکسر بے بہرہ ہوچکے تھے، اس لئے وہ ایک نبی مرسئل کے ذریعہ ہدایت و رہنمائی کے شدید محتاج تھے اس وقت اللہ نے ان پر کرم کیا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرمایا۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عربوں میں پیدا ہونا، اس بات کے منافی نہیں ہے کہ وہ ساری دنیا والوں کے لئے نبی بنا کر بھیجے گئے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاعراف آیت (851) میں فرمایا ہے : (قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمعیاً) ” اے میرے نبی ! آپ کہہ دیجیے کہ لوگو ! میں تم سب کے لئے اللہ کا رسول ہوں۔ “ اور سورۃ الانعام آیت (91) میں فرمایا ہے : (لانذرکم بہ ومن بلغ) ” تاکہ اس قرآن کے ذریعہ میں تمہیں اور ان سب کو اللہ سے ڈراؤں جن تک میرا پیغام پہنچے۔ “