سورة الواقعة - آیت 68

أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اچھا تم نے یہ بات بھی دیکھی کہ جو پانی تمہارے پینے میں آتا ہے اسے کون برساتا ہے؟

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢١) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میٹھا پانی جسے تم پیتے ہو اور اپنی پیاس بجھاتے ہو، اسے بادل سے بارش کی شکل میں زمین پر تم برساتے ہو، یا ہم؟ جواب ظاہر ہے کہ اسے ہم برساتے ہیں جب تمہیں اس کا اعتراف ہے، تو پھر باری تعالیٰ کی وحدانیت کا اعتراف کیوں نہیں کرتے ہو اور اس بات کو کیوں نہیں مانتے کہ وہ قادر مطلق قیامت کے دن تمہیں دوبارہ زندہ کرنے پر قادر رہے۔ آیت (٧٠) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر وہ چاہتا تو پانی جیسی عظیم نعمت کو تم سے چھین لیتا، اسے اتنا کھارا بنا دیتا کہ تم اس کا ایک گھونٹ بھی حلق سے نیچے نہ اتار سکتے اور نہ اس کے ذریعہ اپنی زمینوں اور کھیتوں کو سیراب کرسکتے لیکن اس نے ایسا نہیں کیا، اس لئے کہ وہ ذات بحق اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے اور اس کی یہ مہربانی بندوں سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ ہر دم اس کا شکر ادا کرتے رہیں۔