سورة النسآء - آیت 8

وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُم مِّنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوفًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور جب (میراث کی) تقسیم کے وقت (غیر وارث) رشتہ دار، یتیم اور مسکین لوگ آجائیں، تو ان کو بھی اس میں سے کچھ دے دو، اور ان سے مناسب انداز میں بات کرو۔ (٨)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

10۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے وراثت سے متعلق ایک ضمنی حکم بیان کیا ہے، کہ جب وراثت کا مال تقسیم ہو رہا ہو، اور وہاں ایسے رشتہ دار جو وراثت کے حقدار نہ ہوں اور یتیم اور غریب لوگ آجائیں تو مال تقسیم کرنے سے پہلے بطور صدقہ اور ان کا دل رکھنے کے لیے انہیں کچھ مال دے دینا چاہئے۔ اس آیت کے بارے میں دو رائے ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ یہ محکم ہے، منسوخ نہیں ہے، امام بخاری نے ابن عباس (رض) سے یہی روایت نقل کی ہے اور صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت کی بھی یہی رائے ہے کہ ورثہ پر یہ حکم واجب ہے، لیکن اس کی کوئی حد مقرر نہیں۔ دوسری رائے یہ ہے کہ اس آیت کا حکم احکام وراثت کے ذریعہ منسوخ ہوچکا ہے، عکرمہ، ابو الشعثاء اور قاسم بن محمد کی یہی رائے ہے، اور ائمہ اربعہ اور جمہور فقہاء کا یہی مذہب ہے، البتہ مال میں وصیت کا حکم غیر وارثوں کے لیے باقی ہے۔ صاحب مال اپنی زندگی میں ایک تہائی مال میں بذریعہ وصیت تصرف کرسکتا ہے، جیسا کہ سعد بن وقاص (رض) کی حدیث سے ثابت ہے جسے بخاری اور مسلم نے روایت کی ہے، کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں ایک تہائی مال میں بطور وصیت تصرف کرنے کا حق دیا تھا۔ بعض لوگوں نے پہلی رائے کو ترجیح دیا ہے، اور کہا ہے کہ آیت کو منسوخ ماننے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ مال کی تقسیم کے وقت اگر کچھ رشتہ دار موجود ہوں اور وہ محتاج بھی ہوں، تو صلہ رحمی کا جذبہ رکھنے والے ورثہ یہی مناسب سمجھیں گے کہ انہیں بھی کچھ دے دیا جائے، تاکہ جہاں ان کے کسی رشتہ دار کا مال تقسیم ہو رہا ہے وہاں سے وہ محروم نہ واپس جائیں۔ اور خاص طور سے وہ یتیم بچے، جن کے باپ کا انتقال دادا کے ہوتے ہوئے ہوگیا ہو اور وراثت سے محروم ہوگئے ہوں اور پھر ان کے دادا کے انتقال کے بعد وراثت تقسیم ہو رہی ہو، اور ان کے چچا اور پھوپھیاں وراثت کا مال پا کر خوش ہو رہی ہوں اور یہ بچے ان کا منہ تک رہے ہوں اور ان کے حصہ میں کچھ نہ آرہا ہو، صرف اس لیے کہ ان کے والد کا انتقال دادا سے پہلو ہوچکا ہے، تو ان کی محرومی کا کیا عالم ہوگا، ایسے بچوں کے حق میں تو یہ آیت آب حیات کے مترادف ہے، اور خاص طور پر اگر دادا کی جائداد بڑی ہو، اور ورثہ ان یتیموں کے حال پر رحم کریں تو ان کے حصہ میں بھی اچھی خاصی جائداد آسکتی ہے، اور ان کی غرب دور ہسکتی ہے،