وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ
یہ فطری نظام قدیم سے ہے خدا نے جب آسمان کو پیدا کیا اور اسے بلند کیا تو اسی وقت ایک میزان عدل بھی قائم کردیا
(5) اللہ تعالیٰ نے زمین میں پائی جانے الی مخلوقات کے لئے آسمان کو چھت بنا کر اونچا رکھا ہے، جو اللہ کی مرضی کے تابع ہے اور مخلوقات کے سروں پر نہیں گرتا۔ اور اس نے اپنے بندوں کے درمیان تمام اقوال و افعال میں عدل و انصاف کو واجب قرار دیا ہے۔ آیت میں ” میزان“ سے مراد صرف ترازو ہی نہیں ہے، بلکہ ہر وہ پیمانہ مراد ہے جس سے کسی چیز، زمین، مقدار اور دنیا میں پائی جانے والی دیگر مادی اور معنوی اشیاء اور حقائق کی پیمائش کی جاتی ہے اور جن کے ذریعہ بنی نوع انسان آپس میں عدل و انصاف قائم کرتے ہیں اور ان میں نقص و زیادتی کر کے عدل و انصاف کو پامال کرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ آیت میں ” میزان“ سے مقصود ” عدل“ ہے اور اس کی دلیل آیت (8) ہے،