سورة الرحمن - آیت 6

وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور درختوں اور ستاروں نے بھی اپنے بلند سروں کو اس نظام کے آگے جھکا دیا ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٤) زمین پر اگنے والے پودے اور درخت، تمام ہی اللہ کی مشیت اور اس کے ارادے کے کلی طور پر تابع ہیں اور جس طرح مومن آدمی اپنے رب کے حضور سجدہ کرتا ہے، اسی طرح ان پودوں اور درختوں کا اپنے خلاق کی مشیت وارادے کا تابع فرمانا رہنا گویا ہر دم اس کے حضور سربسجود رہنا ہے۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ آفتاب و ماہتاب اجرام سماویہ میں سے ہیں اور پودے اور درخت زمین میں ہوتے ہیں۔ اس لئے آفتاب و ماہتاب کے بعد، پودوں اور درختوں کا ذکر بطور تقابل مناسب رہا کہ سبھی اپنے خلاق کی مشیت و ارادے کے سانے سر جھکائے ہوئے ہیں۔ بعض لوگوں نے ” نجم“ سے مراد آسمان کے تارے لئے ہیں اور ان کا اپنے رب کے حضور سجدہ، ان کا طلوع ہونا ہے، اور درخت کا سجدہ یہ ہے کہ وہ اللہ کی مرضی کے مطابق پھل دیتے ہیں، جنہیں اس کے بندے استعمال کرتے ہیں۔