سورة النسآء - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

شروع اللہ کے نام سے جو بے حد مہربان اور نہایت رحم والا ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

تفسیر سورۃ النساء نام : اس سورت کا نام سورۃ النساء اس لیے ہے کہ عورتوں کے مسائل اس میں دیگر سورتوں کی بہ نسبت زیادہ ہیں۔ زمانہ نزول : ابن عباس، عبداللہ بن زبیر اور زید بن ثابت (رض) سے مروی ہے کہ یہ سورۃ مدنی ہے، قرطبی نے لکھا ہے کہ صرف ایک آیت فتح مکہ کے سال مکہ میں عثمان بن طلحہ الحجی کے بارے میں نازل ہوئی، وہ آیت ان اللہ یامرکم ان تؤدوا الامانات الی اھلہا ہے، بخاری نے عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ سورۃ النساء نازل ہوئی تو میں رسول اللہ کے پاس تھی، یعنی ام المومنین کی حیثیت سے اور اس بات پر سارے علماء کا اتفاق ہے کہ عائشہ رضی اللہ شادی کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس رخصت ہو کر مدینہ میں گئی تھیں، اس کے علاوہ اس سورت میں بیان کردہ مسائل پر غور کرنے کے بعد بالکل یقین ہوجاتا ہے کہ یہ مدنی سورت ہے۔ فضیلت : حاکم نے عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت کی ہے کہ سورۃ النساء میں پانچ ایسی آیتیں ہیں جن کے بدلے میں دنیا و مافیہا کو قبول نہیں کروں گا، عبدالرزاق نے ان سے روایت کی ہے کہ سورۃ النساء میں پانچ ایسی آیتیں ہیں جو میرے نزدیک پوری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں۔ دونوں روایتوں میں مندرجہ ذیل آیتوں کا ذکر ہے۔ 1۔ ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ۔ الایۃ۔ (40) 2۔ ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ۔ الایۃ (31) 3۔ ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ۔ الایہ (48) 4۔ ولو انہم اذ ظلموا انفسہم۔ الایہ (64) 5۔ ومن یعمل سوءا او یظلم نفسہ ثم یستغفر اللہ یجد اللہ غفورا رحیما۔ الایہ (110)